Jump to content

Welcome to CooLYar Forums - A Friendly Community by CooLYar
Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to create topics, post replies to existing threads, give reputation to your fellow members, get your own private messenger, post status updates, manage your profile and so much more. This message will be removed once you have signed in.
Login to Account Create an Account




Photo

From: مسجدِ قرطبہ

Posted by Emaad , 22 October 2011 · 180 views

اسپین کے سفر کے دوران جو چیز علامہ اقبال کے لیے سب سے زیادہ دلچسپی کا باعث بنی، وہ مسجدِ قرطبہ تھی جو مسلمانوں کے اسپین میں سات سو سالہ دورِ حکومت کے گواہ کے طور پر موجود تھی اور بڑی شان سے ایستادہ تھی۔ اس مسجد کو گرجا گھر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اقبال نہ صرف اس مسجد کو دیکھنا چاہتے تھے بلکہ یہاں نماز بھی پڑھنا چاہتے تھے، لیکن رکاوٹ یہ تھی کہ اسپین کے قانون کے مطابق اس مسجد میں* اذان دینا اور نماز پڑھنا ممنوع تھا۔ پروفیسر آرنلڈ کی کوشش سے اقبال کو اس شرط کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی کہ وہ مسجد کے اندر داخل ہوتے ہی اندر سے دروازہ مقفل کر دیں۔

مسجد میں داخل ہوتے ہی اقبال نے اپنی آواز کی پوری قوت کے ساتھ اذان دی "اللہ اکبر، اللہ اکبر"۔ سات سو سال کے طویل عرصے میں یہ پہلی اذان تھی جو مسجد کے در و دیوار سے بلند ہوئی۔ اذان کے فارغ ہونے کے بعد اقبال نے مصلٰی بچھایا اور دو رکعت نماز ادا کی۔ نماز میں آپ پر اس قدر رقت طاری ہو گئی کہ گریہ و زاری برداشت نہ کر سکے اور سجدے کی حالت میں بے ہوش ہو گئے۔ جب آپ ہوش میں آئے تو آنکھوں* سے آنسو نکل کہ رخساروں پر سے بہہ رہے تھے اور سکونِ قلب حاصل ہو چکا تھا۔ جب آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے تو یکایک اشعار کا نزول ہونے لگا، حتٰی کہ پوری دعا اشعار کی صورت میں مانگی۔ اس دعا کے چند اشعار

یہاں نقل کیے جاتے ہیں



ہے یہی میری نماز ، ہے یہی میرا وضو

میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہو

راہ محبت میں ہے کون کسی کا رفیق

ساتھ مرے رہ گئی، ایک مری آرزو

تجھ سے گریباں مرا مطلع صبح نشور

تجھ سے مرے سینے میں آتش 'اللہ ھو'



تجھ سے مری زندگی سوز و تب و درد و داغ

تو ہی مری آرزو ، تو ہی مری جستجو

پھر وہ شراب کہن مجھ کو عطا کر، کہ میں

ڈھونڈ رہا ہوں اسے توڑ کے جام و سبو



تیری خدائی سے ہے میرے جنوں کو گلہ

اپنے لیے لامکاں ، میرے لیے چار سو!

فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا

حرف تمنا ، جسے کہہ نہ سکیں رو برو


Source: مسجدِ قرطبہ




October 2014

M T W T F S S
  12345
6789101112
13141516171819
20 21 2223242526
2728293031  

Recent Entries

Recent Comments

Latest Visitors

  • Photo
    sarfaraznamdar
    25 Jul 2014 - 09:24
  • Photo
    duabatool
    16 Feb 2012 - 12:00
  • Photo
    sho_shweet
    13 Feb 2012 - 15:34
  • Photo
    rsavtoby
    16 Jan 2012 - 19:58
  • Photo
    niferu
    07 Jan 2012 - 20:35
  • Photo
    Seed
    26 Dec 2011 - 19:41
  • Photo
    akiji
    20 Dec 2011 - 18:50
  • Photo
    carpinteyropvv
    13 Dec 2011 - 07:57
  • Photo
    Lailaa
    12 Dec 2011 - 15:38
  • Photo
    sabah
    19 Nov 2011 - 21:31
  • Photo
    Hibaa
    17 Nov 2011 - 19:47
  • Photo
    moonabid
    06 Nov 2011 - 20:13
  • Photo
    lypebeeheat
    31 Oct 2011 - 11:48
  • Photo
    shahabi
    30 Sep 2011 - 15:18
  • Photo
    coachoutletula
    20 Sep 2011 - 19:07

Categories