Nayab007 0 Posted December 10, 2009 آنسوؤںکےرنگوں کو لفظوںمیں بیان کرنا بہت مشکل ہوتا ہے بہت معمولی باتوں پر بھی آنسو نکل آتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کے آنسو زندگی کے بڑے بڑے تلخ ہادثات پر بھی نہیں نکلتے مگر کچھ آنسو ایسے بھی ہوتے ہیں جو آنکھوں سے نمودار تو نہیں ہوتے مگر دل ہی دل میں وہ آنسو وجود کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔سوچنے سمجنے کی صلاحیتوںکو ماؤف کر دیتے ہیں بدقسمتی سے یہی آنسو پاکستان کے لوگوں کا مقدر بن چکے ہیں بم دھماکوں نے عوام کو لرزا کر رکھ دیا ہے آہوں اور سسکیوں میں ڈوبی ہوئی آوازیں چاروںطرف سے سنائی دے رہی ہیں۔موت تو اٹل ہے وہ تو آنی ہے مگر بم دھماکوں میں مرنے والوں کا صدمہ کبھی کم نہیں ہو سکتا ۔اپنے پیاروں کے خون میں لتھڑے ساکت جسم کواٹھائے لوگوں کے چہرے پر دکھ اور غموں کے بوجھ کے ساتھ حیرت بھی ہے کہ کس جرم کی پاداش میں یہ خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے آخر یہ خوفناک انتقام کی آگ ہم معصوم بچوں عورتوں پر کیوں مسلط کی جا رہی ہے۔اسلام جیسے پاکیزہ دین کی غلط تشریح کرنے والے گمراہی کی دلدل میں دھنسے طالبان عرف ظالبان پر قوم متفق کیوں نہں ہو رہی ہے جو ہر دھماکے کے بعد بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں یہ ہم نے کیا ہے اور آیندہ بھی کرتے رہے گئے ۔آخرکیوں لوگ جواز ڈھوند رہے ہیں کہ ان کے لوگ بھی مرے ہیں اور وہ بدلہ تو لیں گئے مگریہ بدلا معصوم اور بے گناہ لوگو ں سے کیوں لیا جا رہا ہے ۔خدارا یہ جواز ڈھونڈنا بند کریں آخر ہم کب تک کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیئے ہوئے ان بے رحم اور سفاک لوگو ں کی صفا ئی دیتے رہے گئے ۔اب یہ جنگ ہماری گلی محلوں اور مارکیٹوں تک پہنچ چکی ہے اب ھمیں ہوش کے ناخن لینا ہوں گئے اب صرف مزمتی بیانوں سے کچھ نہیں چلے گا افسو س کے اب قوم کی راہنمائی کرنے والا کوئی لیڈر نہیں ہے اسلام کا لبادھا او ڑھے ہوئے دہشت گردوں کو تفریق کرنے والے علماء نہیں ہیں مگر جو اکا دکا ہیں ان کا آپس میں ہی اتفاق نہں ہے ۔قوم غموں سے چکنا چور ہے پاکستان کی درودیوار خون سے رنگین ہو چکی ہے۔ہر طرف سے بے بسی کے آنسو ہیں ۔آج ہم سب کو آکٹھا ہونا ہو گا اور انسانیت کے دشمنوں کو للکارنا ہو گا ۔ہماری ماؤں بہنوں اور بچوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والوں کے ساتھ مرو یا مارو والی بات کرنا ہی گی۔ان دہشت گردوں کی نسلو ں کا سفیا یا ہی ہمارے زخموں پر کچھ مرہم رکھ سکے گا ۔مرنے والوں کے عزیزوں کا دکھ درد میں بیان نہیں کر سکتا ایسا کرنے سے الفاظ ختم ہو جایئں گیئے اور انگلیاں ان کے درد کو محسوس کرتی ہوئی ٹوٹ جایئں گی۔ماؤں کے آنسو ،بہنوں کے آنسو سبھی شہید ہونے والوں کے عزیزوں کے آنسو ان کی آنکھو ں کی طرح ساکت ہیں آنکھوں میں تو ان کے گھروں میں واپس آنے کا انتظار تھا کیا پتا تھا یہ انتطار ہمیشہ کا دکھ بن جائے گا ۔بھارت اسرائیل جیسے دشمنو ں کو گلے شکوے دینے کا کوئی فائیدہ نہں ہے۔دشمنو ں سے گلا نہں کرتے وہ تو ہرصورت میں فائیدہ اٹھاتا ہے ۔بمبئ حملوں میں بھارت نے چیخ چیخ کر پوری دنیا میں پاکستان کو ملزم بنا دیا تھا اور ہم کھلےثبوت ہونے کے باوجود مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں شاید یہ مناسب وقت تبھ آیا گا جب اقتدار کر کرسیوں پر بیٹھنے والے مناسب لوگ ہوں گئے جو کہ جھوٹی امیدوں پر مبنی خواب ہے جس کی تعبیر مکمن نہں ۔آنسو اب آنسو کب رہے ہیں وہ تو لاوا بن چکے ہیں مجھے ڈر ہے یہ لاوا پھٹ نا جائے اگر یہ پھٹ گیا تو کچھ نہیں بچے گا ۔آللہ شہید ہونے والے لوگو ں کے درجات بلند کرے توفانوں اور بارشوں کی طرح آنکھوں سے برسنے والے آنسو ؤں پر ہمت اور حوصلے کا بندھ باندھ دے ۔آمین ۔ تحریر۔بابر نایاب بھٹی منچن آباد Share this post Link to post Share on other sites
Emaad 56 Posted December 11, 2009 very very weldone nayaab very good article... Share this post Link to post Share on other sites
shahabi 23 Posted December 12, 2009 nice nayab keep it up Share this post Link to post Share on other sites