Amaya 3 Posted May 21, 2010 بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں ضبطِ کے زرد آنچل میں اپنے سارے درد چُھپالیتی ہیں روتے روتے ہنس پڑتی ہیں ہنستے ہنستے دل ہی دل ہی رولیتی ہیں خوشی کی خواہش کرتے کرتے خواب اور خاک میں اَٹ جاتی ہیں سوحصّوں میں بٹ جاتی ہیں گھر کے دروازے پر بیٹھی اُمیدوں کے ریشم بنتے ….ساری عُمر گنوا دیتی ہیں میں جو گئے دنوں میں ماں کی خوش فہمی پہ ہنس دیتی تھی اب خود بھی تو عُمر کی گرتی دیواروں دے ٹیک لگا ئے فصل خوشی کی بوتی ہوں اور خوش فہمی کا ٹ رہی ہوں جانے کیسی رسم سے یہ بھی ماں کیوں بیٹےی کو ورثے میں اپنا مقدّر دے دیتی ہے Share this post Link to post Share on other sites
SimpleRayyan 4 Posted May 21, 2010 hmmmm....nice amay...ye virsa ki kuj aisaa hai k jo na kabhi khatm hua hai or na hi honay waala hai Share this post Link to post Share on other sites
shahabi 23 Posted May 22, 2010 very very nice amaya Share this post Link to post Share on other sites
Amaya 3 Posted May 22, 2010 thanks Rayyan And Shahabi ...btw congrats to both ov u on becoming 5 heart members.... Share this post Link to post Share on other sites