shy 468 Posted July 7, 2013 دائم آباد رہے گی دُنیا ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا.... ناصر کاظمی Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted July 7, 2013 دور خلا میں کہیں آنکھ بھٹکتی رہی ذہن فضاؤں میں تھا اڑتے سحابوں میں گم پھیل گیا آنکھ میں کتنی رتوں کا غبار کتنے جہاں ہو گئے دل کے خرابوں میں گم Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted July 8, 2013 chalo acha hua kaam aa gai deewangi apni wagrna hum zamany bhar ko smjhanay kahaan jaatay?? Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted July 8, 2013 ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تُو کہاں گیا ہے میرے شہر کے مسافر تُو؟ بہت اُداس ہے اک شخص تیرے جانے سے جو ہو سکے تو چلا آ اُسی کی خاطر تُو میری مثال کہ اک نخلِ خشکِ صحرا ہوں تیرا خیال کہ شاخِ چمن کا طائر تُو میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تُو ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تُو فراز! تُو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیا زمانہ صاحبِ زر اور صرف شاعر تُو.... احمد فراز Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted July 8, 2013 خوشی تو کیا کہ غمِ تازہ کا شگوں بھی نہیں فضائے دل میں کسی یاد کا فسوں بھی نہیں وہ روز آتے ہیں ملتے ہیں حال پوچھتے ہیں یہ اور بات کہ دل کو قرار یوں بھی نہیں ناصر کاظمی Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted July 8, 2013 مجھے وجود ملا تھا میری رضا کے بغیر میں اپنی زیست سے پھر انحراف کیا کرتا؟ کچھ اس لیے بھی مسیحا سے حالِ دل نہ کہا وہ رو رہا تھا میرے اشک صاف کیا کرتا؟؟؟ Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted July 8, 2013 وفا میں اب یہ ہُنر اختیار کرنا ہے وہ سچ کہے نہ کہے اعتبار کرنا ہے یہ تجھ کو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوا؟ مجھے تو خیر تیرا انتظار کرنا ہے ہوا کی زد میں جلانے ہیں آنسوؤں کے چراغ کبھی یہ جشن سرِ رہگزار کرنا ہے وہ مسکرا کے نئے وسوسوں میں ڈال گیا خیال تھا کہ اُسے شرمسار کرنا ہے مثالِ شاخِ برہنہ خزاں کی رُت میں کبھی خود اپنے جسم کو بے برگ و بار کرنا ہے تیرے فراق میں دن کس طرح کٹیں اپنے کہ شغلِ شب تو ستارے شمار کرنا ہے چلو یہ اشک ہی موتی سمجھ کے بیچ آئیں کسی طرح تو ہمیں روزگار کرنا ہے کبھی تو دل میں چھپے زخم بھی نمایاں ہوں قبا سمجھ کے بدن تار تار کرنا ہے خدا خبر یہ کوئی ضد کہ شوق ہے محسن خود اپنی جان کے دُشمن سے پیار کرنا ہے.... محسن نقوی Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted July 11, 2013 tou apni baargah mae mujh ko buland rakh duniya giraye nazrun sy ya aasmaan sy Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted July 11, 2013 اِن آنسوؤں کی حقیقت تمھیں پتہ ہی نہیں میری طرح کوئی اپنی کمائی دے گا تمھیں؟ تم اپنے دل میں کبھی جھانک کیوں نہیں لیتے؟ یہیں کہیں میرا چہرہ دکھائی دے گا تمھیں Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted July 11, 2013 یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے ، یہی انتظار ہوتا ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو یہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست نا صح کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا غم اگر چہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے غمِ عشق گر نہ ہوتا، غم روزگار ہوتا کہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟شب غم بری بلا ہے مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا؟ نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا اسے کون دیکھ سکتا، کہ یگانہ ہے وہ یکتا جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا یہ مسائلِ تصّوف یہ ترا بیان غالبؔ تجھے ہم ولی سمجھتے ،جو نہ بادہ خوار ہوتا Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted July 13, 2013 i love those random memories that make me smile no matter whats going in my life...right now 1 Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted July 20, 2013 کوئی چھاؤں ہو جسے چھاؤں کہنے میں دوپہرکا گماں نہ ہو کوئی شام ہو جسے شام کہنے میں شب کا کوئی نشاں نہ ہو کوئی وصل ہو جسے وصل کہنےمیں ہجر رت کا دھواں نہ ہو کوئی لفظ ہو جسے لکھنے پڑھنےکی چاہ میں کبھی اک لمحہ گراں نہ ہو یہ کہاں ہوا ہے کہ ہم تمہیں کبھی اپنے دل سے پکارنے کی سعی کریں وہیں آرزو بے اماں نہ ہو وہیں موسمِ غمِ جاں نہ ہو Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted July 21, 2013 khaak muthi mae thamay huy iss soch mae gum hun hum jo marr jatay haen to khwab kidher jaty haen ?? Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted August 5, 2013 ﻣﻘﺮﻭﺽ ﮐﮧ ﺑﮕﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﮧ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﮧ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﻣﯿﮟ ﻋﺠﺐ ﺣﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺳﯿﻼﺏ ﺳﮯ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﻣﮑﺎﻧﺎﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﭩﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﮕﻨﻮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺩﻝ ﺭﻭﺯ ﺳﺠﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﮩﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﻏﻢ ﺭﻭﺯ ﭼﻠﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺍﺏ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻧﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻨﺎﺟﺎﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮐﺲ ﺩﺭﺟﮧ ﻣﻘﺪﺱ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻗﺮﺏ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺎﺱ ﮐﺎ ﺻﺤﺮﺍ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﺮﺳﺎﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ.... محسن نقوی Share this post Link to post Share on other sites