Jump to content
CooLYar Forums - A Friendly Community by CooLYar
shy

Soch...

Recommended Posts

دائم آباد رہے گی دُنیا

ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا....

ناصر کاظمی

Share this post


Link to post
Share on other sites

دور خلا میں کہیں آنکھ بھٹکتی رہی

ذہن فضاؤں میں تھا اڑتے سحابوں میں گم

پھیل گیا آنکھ میں کتنی رتوں کا غبار

کتنے جہاں ہو گئے دل کے خرابوں میں گم

Share this post


Link to post
Share on other sites

chalo acha hua kaam aa gai deewangi apni

wagrna hum zamany bhar ko smjhanay kahaan jaatay??

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تُو

کہاں گیا ہے میرے شہر کے مسافر تُو؟

بہت اُداس ہے اک شخص تیرے جانے سے

جو ہو سکے تو چلا آ اُسی کی خاطر تُو

میری مثال کہ اک نخلِ خشکِ صحرا ہوں

تیرا خیال کہ شاخِ چمن کا طائر تُو

میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی

میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تُو

ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے

یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تُو

فراز! تُو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیا

زمانہ صاحبِ زر اور صرف شاعر تُو....

احمد فراز

Share this post


Link to post
Share on other sites

خوشی تو کیا کہ غمِ تازہ کا شگوں بھی نہیں

فضائے دل میں کسی یاد کا فسوں بھی نہیں

وہ روز آتے ہیں ملتے ہیں حال پوچھتے ہیں

یہ اور بات کہ دل کو قرار یوں بھی نہیں

ناصر کاظمی

Share this post


Link to post
Share on other sites

مجھے وجود ملا تھا میری رضا کے بغیر

میں اپنی زیست سے پھر انحراف کیا کرتا؟

کچھ اس لیے بھی مسیحا سے حالِ دل نہ کہا

وہ رو رہا تھا میرے اشک صاف کیا کرتا؟؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

وفا میں اب یہ ہُنر اختیار کرنا ہے

وہ سچ کہے نہ کہے اعتبار کرنا ہے

یہ تجھ کو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوا؟

مجھے تو خیر تیرا انتظار کرنا ہے

ہوا کی زد میں جلانے ہیں آنسوؤں کے چراغ

کبھی یہ جشن سرِ رہگزار کرنا ہے

وہ مسکرا کے نئے وسوسوں میں ڈال گیا

خیال تھا کہ اُسے شرمسار کرنا ہے

مثالِ شاخِ برہنہ خزاں کی رُت میں کبھی

خود اپنے جسم کو بے برگ و بار کرنا ہے

تیرے فراق میں دن کس طرح کٹیں اپنے

کہ شغلِ شب تو ستارے شمار کرنا ہے

چلو یہ اشک ہی موتی سمجھ کے بیچ آئیں

کسی طرح تو ہمیں روزگار کرنا ہے

کبھی تو دل میں چھپے زخم بھی نمایاں ہوں

قبا سمجھ کے بدن تار تار کرنا ہے

خدا خبر یہ کوئی ضد کہ شوق ہے محسن

خود اپنی جان کے دُشمن سے پیار کرنا ہے....

محسن نقوی

Share this post


Link to post
Share on other sites

tou apni baargah mae mujh ko buland rakh

duniya giraye nazrun sy ya aasmaan sy

Share this post


Link to post
Share on other sites

اِن آنسوؤں کی حقیقت تمھیں پتہ ہی نہیں

میری طرح کوئی اپنی کمائی دے گا تمھیں؟

تم اپنے دل میں کبھی جھانک کیوں نہیں لیتے؟

یہیں کہیں میرا چہرہ دکھائی دے گا تمھیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے ، یہی انتظار ہوتا

ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا

کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو

یہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست نا صح

کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا

رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا

جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا

غم اگر چہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے

غمِ عشق گر نہ ہوتا، غم روزگار ہوتا

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟شب غم بری بلا ہے

مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا

ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا؟

نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

اسے کون دیکھ سکتا، کہ یگانہ ہے وہ یکتا

جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا

یہ مسائلِ تصّوف یہ ترا بیان غالبؔ

تجھے ہم ولی سمجھتے ،جو نہ بادہ خوار ہوتا

Share this post


Link to post
Share on other sites

i love those random memories that make me smile :smile: no matter whats going in my life...right now

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

کوئی چھاؤں ہو

جسے چھاؤں کہنے میں

دوپہرکا گماں نہ ہو

کوئی شام ہو

جسے شام کہنے میں شب کا کوئی نشاں نہ ہو

کوئی وصل ہو

جسے وصل کہنےمیں ہجر رت کا دھواں نہ ہو

کوئی لفظ ہو

جسے لکھنے پڑھنےکی چاہ میں

کبھی اک لمحہ گراں نہ ہو

یہ کہاں ہوا ہے کہ ہم تمہیں

کبھی اپنے دل سے پکارنے کی سعی کریں

وہیں آرزو بے اماں نہ ہو

وہیں موسمِ غمِ جاں نہ ہو

Share this post


Link to post
Share on other sites

khaak muthi mae thamay huy iss soch mae gum hun

hum jo marr jatay haen to khwab kidher jaty haen ??

Share this post


Link to post
Share on other sites

ﻣﻘﺮﻭﺽ ﮐﮧ ﺑﮕﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ

ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﮧ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﮧ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ

ﺩﻝ ﮐﺎ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﻣﯿﮟ ﻋﺠﺐ ﺣﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ

ﺳﯿﻼﺏ ﺳﮯ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﻣﮑﺎﻧﺎﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ

ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﭩﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﮕﻨﻮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﮞ

ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ

ﺩﻝ ﺭﻭﺯ ﺳﺠﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﮩﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ

ﻏﻢ ﺭﻭﺯ ﭼﻠﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ

ﺍﺏ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻧﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ

ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻨﺎﺟﺎﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ

ﮐﺲ ﺩﺭﺟﮧ ﻣﻘﺪﺱ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻗﺮﺏ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ

ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ

ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺎﺱ ﮐﺎ ﺻﺤﺮﺍ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﺮﺳﺎﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ....

محسن نقوی

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×

Important Information

We have placed cookies on your device to help make this website better. You can adjust your cookie settings, otherwise we'll assume you're okay to continue.