Jump to content
CooLYar Forums - A Friendly Community by CooLYar
shy

Soch...

Recommended Posts

ﺯﻧﺪﮔﯽ !!! ﺗﯿﺮﮮ ﺗﻌﺎﻗﺐ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ

ﺍﺗﻨﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ____ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ !

Share this post


Link to post
Share on other sites

Mujhko Os Shaks Ki Qismat Pay Reham Aata hay..!

Jiss Ko Har Cheez Milli, Sirf Muhabbat Na Milli..!

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

You don’t love someone for their looks, or their clothes, or for their fancy car, but because they sing a song only you can hear.

~ Oscar Wilde

Share this post


Link to post
Share on other sites

آگ لہرا کے چلی ہے اسے آنچل کردو

تم مجھے رات کا جلتا ہوا جنگل کردو

چاند سا مصرعہ اکیلا ہے میرے کاغذ پر

چھت پہ آجاؤ میرا شعر مکمل کردو

میں تمہیں دل کی سیاست کا ہنر دیتا ہوں

اب اسے دھوپ بنا دو مجھے بادل کردو

اپنی آنگن کی اداسی سے ذرا بات کرو

نیم کے سوکھے ہوئے پیڑ کو چندن کردو

تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مرجاؤں گا

یوں کرو مجھے جانے سے پہلے پاگل کردو

Share this post


Link to post
Share on other sites

When you really care about someone, their happiness is more important than yours...

Share this post


Link to post
Share on other sites

مجھے ایسا کیوں لگتا ہے

کہ آنے والے لمحوں میں

تمہاری یاد بھی شاید

میرےماضی کا حصہ ہو

Share this post


Link to post
Share on other sites

ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﯽ

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺍﺳﯽ ﮔﻤﺸﺪﮦ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﭼﻠﯽ

ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ

ﻣﺮﺍ ﮨﺠﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻟﯿﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ

ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻼﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ

ﺍﮐﺜﺮ

ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﭘﮭﻮﻝ ۔۔۔ ﺭﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ

ﮔﺮﺗﮯ ﮔﺌﮯ

ﭘﺮ ﻣﺮﮮ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﻧﻤﮏ ۔۔۔ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ

ﭘﮧ ﺑﺎﻗﯽ ﺗﮭﺎ

ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﮧ ﺍﺱ ﻟﻤﺲ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﺗﮭﯽ

ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺍ ﮨﺠﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻟﯿﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ

ﻭﮨﯽ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ

ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺗﮭﺎ

ﻟﯿﮑﻦ ۔۔۔ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺑﺘﺎ ﮐﺮ ﺗﻮ ﺁﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ

ﺣﺎﺩﺛﮧ

ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻣﺮﯼ ﺧﺎﮎ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ

ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻣﺮﮮ ﭘﮭﻮﻝ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ

ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﮧ ﺍﺱ ﻟﻤﺲ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ

ﺩﯾﮑﮭﯽ

ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﮭﺎﮌﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﯼ

ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ

ﺍﺏ ﺍﮎ ﺍﻭﺭ ﮨﯽ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﭼﻠﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ

ﮨﻮﮞ

ﻣﺮﮮ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﻧﻤﮏ ۔۔۔ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ

ﭘﮧ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ

ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﮧ ۔۔۔ ﺍﺱ ﻟﻤﺲ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ

ﮨﮯ

ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺍ ﮨﺠﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻟﯿﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ

ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ

ﻭﮨﯿﮟ ﺟﮭﺎﮌﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﯼ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ

Share this post


Link to post
Share on other sites

ابھی سینے میں دل اور آنکھ میں تصویر زِندہ ہے

کوئی تو خواب ہے، جس کے لئے تعبیر زِندہ ہے

عجب اندیشۂ سُود و زیاں کے درمیاں ہیں ہم

کہ فردِ جرم غائب ہے مگر تعزیر زِندہ ہے

پلٹ کر دیکھنا عادت نہیں تیری، مگر پھر بھی

سُبک رفتارئ دُنیا، ابھی اِک تِیر زِندہ ہے

سِتم ایجاد لمحوں نے لبوں کو سِی دیا، لیکن

ابھی دستِ دُعا میں حلقۂ تاثیر زِندہ ہے

ذرا تم خانماں برباد لوگوں کی طرف دیکھو

اِن اُجڑی بستیوں میں کب سے شہرِ میر زِندہ ہے

جُنوں آثار شہروں سے ابھی رانجھا نہیں لوَٹا

سمَے کی ٹُوٹتی پگڈنڈیوں میں ہِیر زِندہ ہے

گروہِ کُشتگاں میں بچنے والے ایک ہم ہی ہیں

ہمارے سَر میں سودا، پاؤں میں زنجیر زِندہ ہے

سلیم اِتنا سمجھنے ہی میں عُمریں بیت جاتی ہیں

نہ کوئی لفظ مُردہ ہے، نہ ہر تحریر زِندہ ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

زندگی خوابِ پریشاں سے زیادہ تو نہیں

اِس میں تعبیر بھی مل جائے یہ وعدہ تو نہیں

بات بے بات الجھنے کی یہ خُو کیسی ھے

یہ بتا، تیرا بچھڑنے کا ارادہ تو نہیں؟

کون خوشبو کے تعاقب میں گیا دُور تلک؟

لوگ سادہ ہیں مگر اتنے بھی سادہ تو نہیں

آپ جائیں گے تو ھم حد سے گزر جائیں گے

شہسوار آپ سہی ھم بھی پیادہ تو نہیں

کس خوشی میں ہمیں بھیجا ھے بتا سرخ گلاب

ظلم کا یہ تیری جانب سے ارادہ تو نہیں؟

بے وفا ھم ہی سہی خود پہ بھی کچھ غور کرو

بے رُخی آپ کی بھی حد سے زیادہ تو نہیں؟؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

دل کو کیا ہو گیا خدا جانے

کیوں ہے ایسا اداس کیا جانے

Share this post


Link to post
Share on other sites

ظاہر شمال میں کوئی تارا ہوا تو ہے

اِذنِ سفر کا ایک اشارا ہوا تو ہے

کیا ہے جو رکھ دیں آخری داؤ میں نقدِ جاں

ویسے بھی ہم نے کھیل ہارا ہوا تو ہے

وہ جان، اُس کو خیر خبر ہے بھی یا نہیں

دل ہم نے اُس کے نام پہ وارا ہوا تو ہے

پاؤں میں نارسائی کا اِ ک آبلہ سہی

اِس دشتِ غم میں کوئی ہمارا ہوا تو ہے

اُس بے وفا سے ہم کو یہ نسبت بھی کم نہیں

کچھ وقت ہم نے ساتھ گزارا ہوا تو ہے

اپنی طرف اُٹھے نہ اُٹھے اُس کی چشمِ خوش

امجد کسی کے درد کا چارا ہوا تو ہے....

امجد اسلام امجد

Share this post


Link to post
Share on other sites

بھول جائیں تو آج بہتر ہے ۔ ۔ ۔

سلسلے قرب کے، جدائی کے

بجھ چکی خواہشوں کی قندیلیں

لٹ چکے شہر آشنائی کے ۔ ۔ ۔

اکثر اوقات چاہنے پر بھی

فاصلوں میں کمی نہیں ہوتی

بعض اوقات جانے والوں کی

واپسی سے خوشی نہیں ہوتی

Share this post


Link to post
Share on other sites

وہی راہ ملتی ہے چل پھر کے ہم کو

جہاں خاک میں دل ملائے گئے ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

وہ طبیعت کا میری تھا بھی نہیں

اور پھر میں تو خود اپنا بھی نہیں

دل کو ہے شوق اس کے پہلو کا مگر

اس کے پہلو میں بہلتا بھی نہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

بیتابیاں سمیٹ کر سارے جہان کی

جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

مجھ سے کہتا ہے کبھی دل میں ملال آتے ہیں؟

کیسے کیسے میرے دشمن کو سوال آتے ہیں

یہ جو ہم روتے ہیں چھپ کر کبھی تنہائی میں

رفتہ رفتہ تجھے آنکھوں سے نکال آتے ہیں

ہم محبت پہ بھی احسان کوئی رکھتے نہیں

نیکیاں کرتے ہیں دریاؤں میں ڈال آتے ہیں

بس اسی خوف سے سوئے نہیں اک مدت سے

ہجر ملتا ہے اگر خوابِ وصال آتے ہیں

پھول کِھل جائیں تو اس شخص سے کم کم ملنا

ایسے موسم میں محبت پہ زوال آتے ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

ghum-e-duniya.....hai tujhe khush-fehmi

hum tere haath bhi aane ke nahi

dil pe ashkoan se raqm hai yaadein

ye warq aag lagane ke nahi

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×

Important Information

We have placed cookies on your device to help make this website better. You can adjust your cookie settings, otherwise we'll assume you're okay to continue.