sho_shweet 657 Posted February 10, 2012 عادت ہی بنا لی ہے اس شہر کے لوگوں نے انداز بدل لینا آواز بدل لینا دنیا کی محبت میں اطوار بدل لینا موسم جو نیا آئے رفتار بدل لینا اغیار وہی رکھنا احباب بدل لینا عادت ہی بنا لی ہے اس شہر کے لوگوں نے رستے میں اگر ملنا نظروں کو جھکا لینا آواز اگر دو تو کترا کے نکل لینا ہر اک سے جدا رہنا ہر اک سے خفا رہنا ہر اک کا گلہ کرنا جاتے ہوئے راہی کو منزل کا پتہ دے کر رستے میںرلا دینا عادت ہی بنا لی ہے اس شہر کے لوگوں نے Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted February 10, 2012 ....ایک کمرہ امتحان میں بےنگِاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پَرچے کو بے خیال ہاتھوں سے اَن بُنے سے لفظوں پَر ,,,اُنگلیاں گھُماتے ہیں یا سوالنامے.,,, کو دیکھتے ہی جاتےہیں ہر طرف کَن اَنکھیوں سے بچ بَچا کے تَکتے ہیں دُوسروں کے پَرچوں کو رَہنما سمجھتے ہیں شاید اِس طرح کوئی راستہ ہی مِل جائے بےنِشاں سوالوں کا کچھ پَتا ہی مِل جائے مجُھ کو دیکھتے ہیں تو یُوں جواب کاپی پَر ہاشیے لگاتے ہیں دائرے بناتے ہیں جیسے اِنکو پَرچے کے سب جواب آتے ہیں اِس طرح کے مَنظر میں اِمتہان گاھوں میں دیکھتا ہی رہتا تھا نقَل کرنے والوں کے نِت نئے طریقوں سے آپ لطُف لیتا تھا! دوستوں سے کہتا تھا کِس طَرف سے جانے یہ! آج دِل کے آنگن میں ایک سوال آیا ہے سینکڑوں سوالوں سا ایک سوال لایا ہے وقت کِی عدالت میں زندگی کِی صُورت میں یہ جو تیرے ہاتھوں میں ایک سوالنامہ ہے کِس نے یہ بنایا ہے کِس لیے بنایا ہے کچُھ سمجھ میں آیا ہے زِندگی کے پَرچے کے سب سوال لازِم ہیں.. سب سوال مشکِل ہیں بے نِگاہ آنکھوں سے دیکھتا ھُوں پَرچے کو بے خیال ہاتھوں سے اَن بُنے سے لفظوں پَر اُنگلیاں گُھماتا ھُوں ہاشِیے لگاتا ھُوں دائرے بناتا ھُوں یا سوالنامے کو دیکھتا ہی جاتا ھُوں Share this post Link to post Share on other sites
daineee 211 Posted February 10, 2012 I HOP ITS NOT U! Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted February 10, 2012 میں نےجو کیا وہ برا کیا،میں نے خود کو خود ہی تباہ کیا جو تجھے پسند ہو میرے رب،مجھے اس ادا کی تلاش ہے Share this post Link to post Share on other sites