sho_shweet 657 Posted February 16, 2013 ایک یہ دن کہ اپنوں نے بھی ہم سے رشتہ توڑ لیا اک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں اک یہ دن کہ جب لاکھوں غم اور کال پڑا ہے آنسو کا اک وہ دن جب اک ذرا سی بات پر ندیاں بہتی تھیں اک یہ دن جب ساری سڑکیں روٹھی روٹھی لگتی ہیں اک وہ دن جب “آؤ کھیلیں“، ساری گلیاں کہتی تھیں اک یہ دن جب ذہن میں ساری عیاری کی باتیں ہیں اک وہ دن جب دل میں ساری بھولی باتیں رہتی تھیں اک یہ گھر جس میں میرا سازوساماں رہتا ہے اک وہ گھر جس میں میری بوڑھی نانی رہتی تھیں Share this post Link to post Share on other sites