sho_shweet 657 Posted February 23, 2013 دل بے خبر ذرا حوصلہ .. کوئی ایسا گھر بھی ہے شہر میں جہاں ہر مکین ہو مطمئن کوئی ایسا دن بھی کہیں پر ہے جسے خوف آمد شب نہیں یہ جو گرد باد زمان ہے یہ ازل سے ہے کوئی اب نہیں دل بے خبر ذرا حوصلہ ترے سامنے وہ کتاب ہے جو بکھر گئی ورق ورق ہمیں اپنے حصے کے وقت میں اسے جوڑنا ہے سبق سبق ہیں عبارتیں تو جدا جدا مگر ایک اصل سوال ہے جو سمجھ سکو تو یہ زندگی کسی ہفت خواں کی مثال ہے دل بے خبر ذرا حوصلہ نہیں مستقل کوئی مرحلہ یہ جو شب نما سی ہے بے دلی یہ جو زرد رو سا ملال ہے کیا عجب کہ کل کو یقیں بنے، یہ جو مضطرب سا خیال ہے! دل بے خبر ذرا حوصلہ دل بے خبر ذرا حوصلہ Share this post Link to post Share on other sites