Aiza 104 Posted August 2, 2013 سونا بنانے کیلئے کاٹھ کباڑ کی حاجت نہیں ہوتی، ہوتی ہے۔ سونا پڑا رہے تو مٹی ہےبندھ جائے تو سنگھار، پیٹ پڑے تو روٹی ہے۔ سُوکھی روٹی کا ایک ٹُکڑا، سونے کے پہاڑ پر بھاری ہے اگر بُھوک سچی ہو۔ سونے کی سلطنت ایک سانس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی اگر جان بچتی ہو ۔ فقیر کے فاقے کے سامنے سونے کی کائنات بھی ہیچ ہے۔۔۔۔۔ سونا بنانا تو بچّوں کا کھیل ہے، اصل کام تو یہ جاننا ہے کہ ہماری تخلیق کا مقصد کیا ہے اور جب کوئی یہ جان لیتا ہے تو وہ اللہ کے اَمر سے کائنات کی ہر چیز پہ حق اور اِختیار حاصل کر کے بھی، اَمراََ اور عملاََ لا تعلق اور بے نیاز ہوجاتا ہے جیسے نبی پاک اگر چاہتے تو عرب کے سارے پہاڑ اور صحرا کے سب ذرّے سونے میں تبدیل کردئیے جاتے مگر سرکارِ مدینہ نے ہرگز ایسا نہیں چاہا۔ کائنات کے وارث ہوتے ہوئے بھی قناعت، صبر اور شُکر پسند فرمایا، ادنیٰ سے ادنیٰ کام اپنے ہاتھوں سے سَر انجام دئیے۔ لِباس، طعام، قیام میں میانہ رَوی اور عام لوگوں کا سا اَنداز پسند فرمایا۔ رَعونت، تکبّر اور شاہانہ رسم و راہ سے ہمیشہ اغماض بَرتا۔۔۔ پِیا رنگ کالا از بابا محمد یحیٰی خان صفحہ نمبر 65-66 Share this post Link to post Share on other sites