Jump to content
CooLYar Forums - A Friendly Community by CooLYar
Sign in to follow this  
shy

Kiyun Udaas Ho Tum?

Recommended Posts

تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سے

نہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہوتم

وہ شوخیاں وہ تبسم وہ قہقہے نہ رہے

ہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھتی ہو تم

چھپا چھپا کے خموشی میں اپنی بے چینی

خود اپنے راز کی تشہیر بن گئی ہو تم

میری امید اگر مٹ گئی تو مٹنے دو

امید کیا ہے بس اک پیش و پس ہے کچھ بھی نہیں

میری حیات کی غمگینیوں کاغم نہ کرو

غمِ حیات غم یک نفس ہے کچھ بھی نہیں

تم اپنے حسن کی رعنائیوں پہ رحم کرو

وفا فریب ہے، طول ہوس ہے کچھ بھی نہیں

مجھے تمہارے تغافل سے کیوں شکایت ہو؟

مری فنا مرے احساس کا تقاضا ہے

میں‌ جانتا ہوں کہ دنیا کا خوف ہے تم کو

مجھے خبر ہے یہ دنیا عجیب دنیا ہے

یہاں حیات کے پردے میں موت پلتی ہے

شکستِ ساز کی آواز روحِ نغمہ ہے

مجھے تمہاری جدائی کا کوئی رنج نہیں

مرے خیال کی دنیا میں‌میرے پاس ہو تم

یہ تم نے ٹھیک کہا ہے تمہیں ملا نہ کروں

مگر مجھے یہ بتا دو کہ کیوں اداس ہو تم

خفا نہ ہونا مری جرأت تخاطب پر؟

تمہیں‌خبر ہے مری زندگی کی آس ہو تم

مرا تو کچھ بھی نہیں ہے میں رو کے جی لوں گا

مگر خدا کے لیے تم اسیرِ‌غم نہ رہو

ہوا ہی کیا جو زمانے نے تم کو چھین لیا

یہاں پہ کون ہوا ہے کسی کا، سوچو تو

مجھے قسم ہے مری دکھ بھری جوانی کی

میں خوش ہوں میری محبت کے پھول ٹھکرا دو

میں اپنی روح کی ہر اک خوشی مٹا لوں گا

مگر تمہاری مسرت مٹا نہیں سکتا

میں‌ خود کو موت کے ہاتھوں میں‌سونپ سکتاہوں

مگر یہ بارِ مصائب اٹھا نہیں سکتا

تمہارے غم کے سوا اور بھی تو غم ہیں مجھے

نجات جن سے میں اک لحظہ پا نہیں ‌سکتا

یہ اونچے اونچے مکانوں کی ڈیوڑھیوں کے تلے

ہر ایک گام پہ بھوکے بھکاریوں کی صدا

ہر ایک گھر میں ہے افلاس اور بھوک کا شور

ہر ایک سمت یہ انسانیت کی آہ و بکا

یہ کارخانوں میں لوہے کا شوروغل جس میں

ہےدفن لاکھوں غریبوں کی روح کا نغمہ

یہ شاہراہوں پہ رنگین ساڑھیوں کی جھلک

یہ جھونپڑوں میں‌غریبوں کے بے کفن لاشے

یہ مال روڈ پہ کاروں کی ریل پیل کا شور

یہ پٹڑیوں پہ غریبوں کے زرد رو بچے

گلی گلی میں یہ بکتے ہوئے جواں چہرے

حسین آنکھوں میں افسردگی سی چھائی ہوئی

یہ جنگ اور یہ میرے وطن کے شوخ جواں

خریدی جاتی ہے اٹھتی جوانیاں جن کی

یہ بات بات پہ قانون و ضابطے کی گرفت

یہ ذلّتیں، یہ غلامی یہ دورِ مجبوری

یہ غم بہت ہیں مری زندگی مٹانے کو

اداس رہ کے مرے دل کو اور رنج نہ دو

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×

Important Information

We have placed cookies on your device to help make this website better. You can adjust your cookie settings, otherwise we'll assume you're okay to continue.