sho_shweet 657 Posted October 31, 2013 سُنوناراض ہو ہم سے ؟مگر ہم وہ ہیں جن کو تو منانا بھی نہیں آتاکسی نے آج تک ہم سے محبت جو نہیں کی ہےمحبّت کس طرح ہوتی ؟ہمارے شہر کے اطراف میں توسخت پہرہ تھا خزاؤں کااور اس شہرِ پریشاں کی فصیلیںزرد بیلوں سے لدی تھیںاور اُن میں نہ کوئی خوشبو تھی، نہ کوئی پھول تم جیسامہک اُٹھتے ہمارے دیدہ و دل جس کی قُربت سےہم ایسے شہر کی سنسان گلیوں میںکسی سُوکھے ہوئے ویران پتّے کی طرح سے تھےکہ جب ظالم ہوا ہم پر قدم رکھتیتو اُس کے پاؤں کے نیچے ہمارا دم نکل جاتامگر پت جھڑ کا وہ ویران موسمسُنا ہےٹل چکا اب تومگر جو ہار ہونا تھیسو وہ تو ہو چکی ہم کو----سُنو----!!!ہارے ہوئے لوگوں سے تو روٹھا نہیں کرتے Share this post Link to post Share on other sites