sho_shweet 657 Posted November 28, 2013 بھلے دنوں کی بات ہے..... بھلی سی ایک شکل تھینہ یہ کہ حُسن تام ہو نہ دیکھنے میں......... عام سینہ یہ کہ وہ چلے تو............ کہکشاں سی رہ گزر لگےمگر وہ ساتھ ہو تو پھر................... بھلا بھلا سفر لگےکوئی بھی رُت ہو اُس کی چھب فضا کا رنگ و روپ تھیوہ گرمیوں کی چھاؤں تھی وہ سردیوں کی دھوپ تھینہ ایسی خوش لباسیاں............ کہ سادگی گلہ کرےنہ اتنی بے تکلّفی............ کہ آئینہ............ حیا کرےنہ عاشقی جنون کی.................. کہ زندگی عذاب ہونہ اس قدر کٹھور پن................... کہ دوستی خراب ہوکبھی تو بات بھی خفی...... کبھی سکوت بھی سُخنکبھی تو کشتِ زعفراں .............کبھی اُداسیوں کا بنسنا ہے................ ایک عمر ہے معاملاتِ دل کی بھیوصالِ جاں فزا تو کیا............. فراقِ جاں گسل کی بھیسو ایک روز کیا ہوا.................... وفا پہ بحث چھڑ گئیمیں عشق کو امر کہوں...... وہ میری ضد سے چڑ گئیمیں عشق کا اسیر تھا......... وہ عشق کو قفس کہےکہ عمر بھر کے ساتھ کو............ وہ بد تر از ہوس کہےمیں کوئی پینٹنگ نہیں............ کہ اک فریم میں رہوںوہی جو من کا میت ہو......... اُسی کے پریم میں رہوںتمہاری سوچ جو بھی ہو ........میں اس مزاج کا نہیںمجھے وفا سے بیر ہے................ یہ بات آج کی نہیںنہ اُس کو مجھ پہ مان تھا.... نہ مجھ کو اُس پہ زعم ہیجب عہد ہی کوئی نہ ہو............ تو کیا غمِ شکستگیسو اپنا اپنا........ راستہ.......... ہنسی خوشی بدل لیاوہ...... اپنی راہ چل پڑی....... میں...... اپنی راہ چل دیابھلی سی ایک شکل تھی........... بھلی سی اُس کی دوستی۔۔۔۔۔۔ Share this post Link to post Share on other sites