sho_shweet 657 Posted November 28, 2013 جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئیبیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پرخود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہےاپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیریتم اسے جھنگ کے بیلے میں اڑا دیتے ہو جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئیاس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگےتم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہو سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لےاس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوبایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو Share this post Link to post Share on other sites