sho_shweet 657 Posted November 28, 2013 انشاء جی بمقابلہ قتیل شفائی صاحبانشا جي اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جي کو لگانا کياوحشي کو سکوں سےکيا مطلب، جوگي کا نگر ميں ٹھکانا کيااس دل کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہي سوچو تو سہيجس جھولي ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولي کا پھيلانا کياشب بيتي، چاند بھي ڈوب چلا، زنجير پڑي دروازے پہکيوں دير گئے گھر آئے، سجني سے کرو گے بہانا کياپھر ہجر کي لمبي رات مياں، سنجوگ کي تو يہي ايک گھڑيجو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيااس حسن کے سچے موتي کو ہم ديکھ سکيں پر چھو نا سکيںجسے ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کياجب شہر کے لوگ نہ رستا ديں، کيوں بن ميں نہ جا بسرام کرےديوانوں کي سي نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کياابن انشاء-----------------------------------------------یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جییہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جیجتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریںکیا اِن سے بھی منہ پھیرو گے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جیکیا سوچ کے تم نے سینچی تھی، یہ کیسر کیاری چاہت کیتم جن کو ہنسانے آئے تھے، اُن کو نہ رلاؤ انشا جیتم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی، اِک بات ہماری بھی مانوکوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں، اُس دیس نہ جاؤ انشا جیبکھراتے ہو سونا حرفوں کا، تم چاندی جیسے کاغذ پرپھر اِن میں اپنے زخموں کا، مت زہر ملاؤ انشا جیاِک رات تو کیا وہ حشر تلک، رکھے گی کھُلا دروازے کوکب لوٹ کے تم گھر آؤ گے، سجنی کو بتاؤ انشا جینہیں صرف “قتیل“ کی بات یہاں، کہیں “ساحر“ ہے کہیں “عالی“ ہےتم اپنے پرانے یاروں سے، دامن نہ چھڑاؤ انشا جیقتیل شفائی Share this post Link to post Share on other sites