Jump to content
CooLYar Forums - A Friendly Community by CooLYar
Sign in to follow this  
sho_shweet

Sajda

Recommended Posts

ایک نوجوان جب ایک ہسپتال میں اپنے دوست کی تیمار داری کیلئے گیا تو اسی ہسپتال میں ہی لمبے عرصے سے چلنے پھرنے سے معذور، صرف سر کو ہلا سکنے کی قوت رکھنے والے مفلوج اپنے محلے کے اس بزرگ کے بستر پر بھی گیا تاکہ اس
کی تیمار داری کر سکے۔
حال احوال اور خیر خیریت پوچھنے کے بعد اس نے بزرگ سے پوچھا؛ بابا جی، اس
معذوری اور اپاہجی میں یقیناً آپ کے دل میں کوئی خواہش تو ضرور ہوگی؟
نوجوان کا خیال تھا بابا کہے گا کہ بیٹا میری خواہش ہے میں تندرست ہو جاؤں، چلوں پھروں، بھاگوں دوڑوں اور دنیا دیکھوں۔
مگر بزرگ نے کہا؛ بیٹے میری عمر پچاس سال سے متجاوز ہے، میرے پانچ بچے ہیں، میں سات سال سے اس چارپائی کا ہوا پڑا ہوں۔ مجھے نا ہی چلنے پھرنے کی خواہش ہے اور نہ ہی اپنے بچوں سے ملنے کی کوئی حسرت اور نا ہی میں لوگوں کی طرح روزمرہ کی عام زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔
نوجوان نے حیرت سے بزرگ کی طرف دیکھا اور پوچھا؛ تو پھر آپ کیا چاہتے ہیں؟
بزرگ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا؛ بس میں اس ماتھے کو زمین پر ٹکانا چاہتا ہوں، میری اتنی سی خواہش ہے کہ اس رب کو ویسے سجدہ کروں جیسے دوسرے لوگ کرتے ہیں۔

نعمتوں میں گھرے، خوشیوں میں مگن، بیماریوں، ورموں، زخموں اور دوائیوں سے محفوظ، پھر بھی ایسی ناشکری کہ رب کے حضور سر جھکانے کی فرصت نہ ہو۔۔۔۔۔۔ ہم اتنا ظالم تو نہ بنیں۔
اللہ پاک ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمادیں اور نیکی کی توفیق اور سیدھے راستے پر چلنے کی ہدایت دیں۔ آمین یا رب العالمین

تحرير نامعلوم

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×

Important Information

We have placed cookies on your device to help make this website better. You can adjust your cookie settings, otherwise we'll assume you're okay to continue.