-
Content count
1,048 -
Joined
-
Last visited
-
Days Won
14
Content Type
Profiles
Forums
Calendar
Blogs
Everything posted by Hoorainraza
-
Assalaam O Alaikum is sentence ko complete krain.................. L!fE iz b0rinG w!th0ut Fr!enDs
-
Hijr Ki Shab Mein Qaid Karay Ya Subha Visaal Mein Rakhay Acha Mola ! Teri Marzi Tu Jis Haal Mein Rakhay Khail Ye Kaisa Khail Rahee Hai Dil Se Teri Mohabbat Ik Pal Sarshaari De aur DinoN Malaal Mein Rakhay Mein Ne Saari Khushbooain aanchal Se Baandh Ke Rakheen Shaayad In Ka Zikr TU apnay Ksi Sawaal Mein Rakhay Ksi Se Tere aanay Ki Sargoshi Ko Suntay Hee Mein Ne Kitnay Phool Chunay aur apni Shaal Mein Rakhay Mushkil Bun Kar Toot Padi Hai Dil Per Ye Tanhai aB Jaanay Ye Kub Tak Isko apnay Jaal Mein Rakhay
-
**** LOVE **** if love is sweet... why does it hurt??? if love is deep... why does it burn??? if love is warm... why do we shiver??? if love is tender... why do we cry??? if love is forever... why do we die???
-
asalam oalikum zabar 10
-
Old family member of coolyar
-
Ankhain dhaikh kar hi Hum fana ho gaye.. Parda na kya hota to hum parda kar gaye hote..!!!
-
Uss ke rukh'sar pe ek ashk kee aa'wara gerdi.... Hum ne yaqoot ke seeny pe saman'der dekha
-
آجا کہ ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا آجا کہ پہاڑوں پہ ابھی برف جمی ہے خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تیری کمی ہے..
-
ہر شام چراغوں کی طرح جلتی ہیں آنکھیں کیا کوئی چلا جائے تو یوں ہوتا ہے محسن. . .
-
تفسیر قرآن کے ماخذ کچھ ضروری معلومات علم تفسیر کے سلسلے میں پیش خدمت ہیں۔عربی زبان میں "تفسیر" کے لفظی معنی ہیں "کھولنا" اور اصطلاح میں علم تفسیر اس علم کو کہتے ہیں جس میں قرآن کریم کے معانی بیان کیے جائیں اور اس کے احکام اور حکمتوں کو کھول کر واضح کیا جائے۔ قرآن کریم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہے وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ "اور ہم نے قرآن آپ پر اتارا تا کہ آپ لوگوں کے سامنے وہ باتیں وضاحت سے بیان فرما دیں جو ان کی طرف اتاری گئیں ہیں" (سورۃ النحل آیت 44) نیز قرآن کریم میں ارشاد ہے لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ "بلاشبہ اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا جبکہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیات کی تلاوت کرے، اور انہیں پاک صاف کرے، اور انہیں اللہ کی کتاب اوار دانائی کی باتوں کی تعلیم دے" (سورۃ آل عمران آیت 164) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم صحابہ کرام کو صرف قرآن کریم کے الفاظ ہی نہیں سکھاتے تھے بلکہ اس کی پوری تفسیر بیان فرمایا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کو ایک ایک سورت پڑحنے میں بعض اوقات کئی کئی سال لگ جاتے تھے۔ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم دنیا میں تشریف فرما تھے اس وقت تک کسی آیت کی تفسیر معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں تھا، صحابہ کرام کو جہاں کوئی دشواری پیش آتی وہ آپ سے رجوع کرتے اور انہیں تسلی بخش جواب مل جاتا، لیکن آپ کے بعد اس بات کی ضرورت تھی کہ تفسیر قرآن کو ایک مستقل علم کی صورت میں محفوظ کیا جاتا، تا کہ امت کے لیے قرآن کریم کے الفاظ کے ساتھ ساتھ اس کے صحیح معنی بھھی محفوظ ہو جائیں اور ملحد و گمراہ لوگوں کےلیے اس کی معنوری تحریف کی گنجائش باقی نہ رہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے اس امت نے یہ کارنامہ اس حسن و خوبی سے انجام دیا کہ آج ہم یہ بات بلا خوف تردید کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کی اس آخری کتاب کے صرف الفاظ ہی محفوظ نہیں ہیں بلکہ اس کی وہ صحیح تفسیر بھی محفوظ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور ان کے جانثار صحابہ کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے۔ علم تفسیر کو اس امت نے کس کس طرح محفوظ کیا؟ اس راہ میں انہوں نے کیسی کیسی مشقتیں اٹھائیں اور یہ جدوجہد کتنے مراحل سے گزری؟ اس کی ایک طویل اور دلچسپ تاریخ ہے جس کا یہاں موقع نہیں، لیکن یہاں مختصرا یہ بتانا ہے کہ تفسیر قرآن کے ماخذ کیا کیا ہیں؟ اور علم تفسیر پر جو بےشمار کتابیں ہر زبان میں ملتی ہیں انہوں نے قرآن کریم کی تشریح میں کن سرچشموں سے استفادہ کیا ہے، یہ سرچشمے کل چھ ہیں۔ 1 قرآن کریم علم تفسیر کا پہلا ماخذ خود قرآن کریم ہے۔ چنانچہ ایسا بکثرت ہوتا ہے کہ کسی آیت میں کوئی بات مجمل اور تشریح طلب ہوتی ہے تو خود قرآن کریم ہی کی کوئی دوسری آیت اس کے مفہوم کو واضح کر دیتی ہے۔ مثلًا سورۃ فاتحہ کی دعا میں یہ جملہ موجود ہے کہ "صراط الذین انعمت علیھم" یعنی ہمیں ان لوگوں کے راستہ کی ہدایت کیجیے جن پر آپ کا انعام ہوا" اب یہاں یہ بات واضح نہیں ہے کہ وہ لوگ کون ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا، لیکن ایک دوسری آیت میں ان کو واضح طور پر متعین کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ "یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالح لوگ" چنانچہ مفسرین کرام جب کسی آیت کی تفسیر کرتے ہیں تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر خود قرآن کریم ہی میں کسی اور جگہ موجود ہے یا نہیں؟ اگر موجود ہوتی ہے تو سب سے پہلے اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ 2 حدیث "حدیث" نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کےے اقوال و افعال کو کہتےہیں اور جیسا کہ پیچھے بیان کیاجا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ساتھ آپ کو مبعوث ہی اس لیے فرمایا تھا کہ آپ لوگوں کے سامنے قرآن کریم کی صحیح تشریح کھول کھول کر بیان فرما دیں، چنانچہ آپ نے اپنے قول اور عمل دونوں سے یہ فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا اور درحقیقت آپ کی پوری مبارک زندگی قرآن ہی کی عملی تفسیر ہے، اس لیے مفسرین کرام نے قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ حدیث پر زور دیا ہے، اور احادیث کی روشنی میں کتاب اللہ کے معنی متعین کیے ہیں۔ البتہ حدیث میں صحیح، ضعیف اور موضوع روایات موجود ہیں اس لیے محقق مفسرین اس وقت تک کسی روایت کو قابل اعتماد نہیں سمجھتے جب تک وہ تنقید روایات کے اصولوں پر پوری نہ اترتی ہو، لہٰذا جو روایت جہاں نظر آ جائے اسے دیکھ کر قرآن کریم کی کوئی تفسیر متعین کر لینا درست نہیں، کیونکہ وہ روایت ضعیف ۔ ۔۔ اور دوسری مضبوط روایتوں کے خلاف بھی ہو سکتی ہے۔ درحقیقت یہ معاملہ بڑا نازک ہے اور اس میں قدم رکھنا انہی لوگوں کا کام ہے جنھوں نے اپنی عمریں ان علوم کو حاصل کرنے میں خرچ کی ہیں۔ 3 صحابہ کے اقوال صحابہ کرام نے قرآن کریم کی تعلیم براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے حاصل کی تھی، اس کے علاوہ نزول وحی کے وقت وہ بہ نفسِ نفیس موجود تھے اور انہوں نے نزول قرآن کے پورے ماحول اور پس منظر کا بذات خود مشاہدہ کیا تھا، اس لیے فطری طور پر قرآن کریم کی تفسیر میں ان حضرات کے اقوال جتنے مستند اور قابل اعتماد ہو سکتے ہیں، بعد کے لوگوں کو وہ مقام حاصل نہیں ہو سکتا ، لہٰذا جن آیتوں کی تفسیر قرآن یا حدیث سے معلوم نہیں ہوتی ان میں سب سے زیادہ اہمیت صحابہ کرام کے اقوال کو حاصل ہے، چنانچہ اگر کسی آیت کی تفسیر پر صحابہ کا اتفاق ہو تو مفسرین کرام اسی کو اختیار کرتے ہیں اور اس کے خلاف کوئی اور تفسیر بیان کرنا جائز نہیں ، ہاں! اگر کسی آیت کی تفسیر میں صحابہ کرام کے اقوال مختلف ہوں تو بعد کے مفسرین دوسرےدلائل کی روشنی میں یہ دیکھتے ہیں کہ کونسی تفسیر کو ترجیح دی جائے، اس معاملہ میں اہم اصول اور قواعد اصول فقہ، اصول حدیث اور اصول تفسیر میں مدون ہیں، ان کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔ 4 تابعین کے اقوال صحابہ کے بعد تابعین کا نمبر آتا ہے، یہ وہ حضرات ہیں جنھوں نے قرآن کریم کی تفسیر صحابہ کرام سے سیکھی ہے، اس لیے ان کے اقوال بھی علم تفسیر میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں، اگرچہ اس معاملہ میں علماء کا اختلاف ہے کہ تابعین کے اقوال تفسیر میں حجت ہیں یا نہین، لیکن ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 5 لغت عرب قرآن کریم چونکہ عربی زبان میں نازل ہوا ہے اس لیے تفسیر قرآن کے لیے اس زبان پر مکمل عبور حاصل کرنا ضروری ہے، قرآن کریم کی بہت سی آیات ایسی ہیں کہ ان کے پس منظر میں چونکہ کوئی شان نزول یا کوئی اور فقہی یا کلامی مسئلہ نہیں ہوتا اس لیے ان کی تفسیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم یا صحابہ یا تابعین کے اقوال منقول نہیں ہوتے۔ چنانچہ ان کی تفسیر کا ذریعہ صرف لغت عرب ہوتی ہے اور لغت ہی کی بنیاد پر اس کی تشریح کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی آیت کی تفسیر میں کوئی اختلاف ہو تو مختلف آراء میں محاکمہ کے لیے بھی علم لغت سے کام لیا جاتا ہے۔ 6 تدبر اور استنباط تفسیر کا آخری ماخذ "تدبر اور استنباط" ہے۔قرآن کریم کے نکات و اسرار ایک ایسا بحرناپیدا کنار ہے جس کی کوئی حد و نہایت نہیں، چنانچہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسلامی علوم میں بصیرت عطا فرمائی ہو وہ جتنا جتنا اس میں غوروفکر کرتا ہےاتنے ہی نئے نئے اسرار و نکات سامنے آتے ہیں، چنانچہ مفسرین کرام اپنے اپنے تدبر کے نتائج بھی اپنی تفسیروں میں بیان فرماتے ہیں لیکن یہ اسرار و نکات اسی وقت قابل قبول ہوتے ہیں جبکہ وہ مذکورہ بالا پانچ ماخذ سے متصادم نہ ہوں، لہٰذا اگر کوئی شخص قرآن کی تفسیر میں کوئی ایسا نکتہ یا اجتہاد بیان کرے جو قرآن و سنت، اجماع، لغت یا صحابہ و تابعین کے اقوال کے خلاف ہو یا سکی دوسرے شرعی اصول سے ٹکراتا ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ (مقدمہ معارف القرآن، مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ)
-
برسوں کے بعد دیکھا ای شخص دلربا سا اب ذہن میں نہیں ہے پر نام تھا بھلا سا ابرو کھنچی کھنچی سی آنکھیں جھکی جھکی سی باتیں رکی رکی سی لحجہ تھکا تھکا سا الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر میں بن جائے جنگلوں میں جس طرح راستہ سا خوابوں میں خواب اس کے یادوں میں یاد اس کی نیندوں میں گھل گیا ہو جیسے کہ رت جگا سا پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی میں وہ ہر طرح سے لیکن اوروں سے تھا جدا سا اگلی محبتوں نے وہ نامرادیاں دیں تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا کچھ یہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہیں تھے روئے کچھ ظاہر میں بجھا تھا احباب کا دلاسا پھر یوں ہوا کہ ساون آنکھوں میں آ بسا تھا پھر یوں ہوا کہ جیسے دل بھی تھا آبلہ سا اب سچ کہنا تو یارو ہم کو خبر نہیں تھی بن جائے گا قیامت اک واقعہ ذرا سا تیور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے وہ اجنبی تھا لیکن لگتا تھا آشنا سا ہم نے بھی اس کو دیکھا کل شام اتفاقاً اپنا بھی حال ہے اب لوگو ‘فراز‘ کا سا (احمد فراز)
-
Thanks sho_shweet Shy
-
ﻣﺰﺍﺝ ﺑﺮﮨﻢ ﺧﻔﺎ ﺳﺎ ﻟﮩﺠﮧ ﺍُﺩﺍﺱ ﭼﮩﺮﮦ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻭﺟﮧ ﺟﻮ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﺳﮯ ? ﺟﺎﻥ ﻣﯿﺮﯼ۔۔۔ ! ﺍُﺩﺍﺱ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮ ﺑﺮﮨﻢ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮ ? ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺍُﭼﮭﻠﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻟﮍﮐﮭﮍﺍ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ : "ﮐﮩﺎﮞ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ? ﮐﯿﻮﮞ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ? ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺅ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺑﻦ ﺟﻮ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﺗﮭﯽ ﻋﻼﺝ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﺘﺎ ﮐﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻢ ﺟﻮ ﺑﭽﮭﮍﻭ ﮐﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻮﻧﮉﻭﮞ ﺳﺮﺍﻍ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﺘﺎ ﮐﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﻞ ﺑﮭﯽ ﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﯿﺮﯼ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﺳﮩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺍﺏ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻦ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻮ ﺍﺏ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮ ﻟﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺅ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺅ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻗﺴﻢ ﮨﮯ
-
ﻭﮦ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮍﮐﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺭﺍﺱ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮐﯿﺎﮞ ﮐﮭﻠﯽ ﺭﮐﮭﻨﺎ
-
میں تمھاری قبر فاتحہ پڑھنے نہیں آیا مجھے معلوم تھا تم مر نہیں سکتی تمھاری موت کی خبر جس نے اُڑائی ہے وہ جھوٹا تھا وہ تم کب تھے کوئی سوکھا ہوا پتا ہوا سے ہل کے ٹوٹا تھا میری آنکھیں تمھارے منظروں میں قید ہیں اب تک کہیں کچھ بھی نہیں بدلا تمھاری قبر پر جس نے تمھارا نام لکھا ہے وہ جھوٹا تھا تمھاری قبر میں میں دفن ہوں تم مجھ میں زندہ ہو کبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا
-
i m missing Faraz.
-
Happy Wedding Rainbow :)
Hoorainraza replied to sho_shweet's topic in Celebrations, Wishes and Events
Bhot bhot Mubarak ho -
رسول الله صلی الله عليه وسلم نے صدقہء فطر ایک صاع (تقریبا 2.5کلو) کھجور یا ایک صاع 'جو' فرض قرار دیا تھا. غلام،آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں پر. آپ صلی الله عليه وسلم كا حكم يہ تھا کہ نماز(عید) کے لیے جانے سے پہلے یہ صدقہ ادا کر دیا جائے. صحیح بخاری 1503 صدقہء فطر روزوں کی کوتاہیوں غلطیوں کا کفارہ ہے اور ضرورتمند مسلمانوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کا ذریعہ ہے. نوٹ: اپنے زیر استعمال جنس (گندم، جو، باجرہ، کھجور، چاول، کشمش، وغیرہ) اور مالی استطاعت کے حساب سے صدقہء فطر ادا کیا جاسکتا ہے. پاکستان میں 100 سے 325 روپے تک فطرانہ ادا کریں اور اس سے بڑھ کر جو آپ دینا چاہیں. جزاک الله.
-
فضائل رمضان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ھیں کہ انہوں نے حضور ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ھے کہ جنت کو رمضان شریف کے لیۓ خوشبوؤں کی دھونی دی جاتی ھے اور شروع سال سے آخر سال تک اسکو آراستہ کیا جاتا ھے پس جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ھے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ھے جس کا نام مثیرہ ھے جس کے جھونکوں کی وجہ سے جنت کے درختوں کے پتے اور کواڑوں کے حلقے بجنے لگتے ھیں جس سے ایسی دل آویز سُریلی آواز نکلتی ھے کہ سننے والوں نے اس سے اچھی آواز کبھی نہیں سنی پس خوشنما آنکھوں والی حوریں اپنے مکانوں سے نکل کر جنت کے بالا خانوں کے درمیاں کھڑے ھو کر آواز دیتی ہیں ھے کوئ جو اللہ کی بارگاہ میں ہم سے منگنی کرنے والا تاکہ حق تعلٰی شانہ ُ اسکو ہم سے جوڑ دے پھر وہی حوریں جنت کے داروغہ رضوان سے پوچھتی ھیں یہ کیسی رات ھے وہ لبیک کہ کر جواب دیتے ھیں کہ رمضان المبارک کی پہلی رات ھے جنت کے دروازے محمدﷺ کی امت کے لیۓ کھول دیۓ گیۓ ھیں حضورﷺ نے فرمایا کہ حق تعالٰی شانہ رضوان سے فرما دیتے ھیں کہ جنت کے دروازے کھول دے اور مالک جہنم کے داروغہ سے فرما دیتے ھیں کہ احمد ﷺ کی امت کے روزا داروں پر جہنم کے دروازے بند کر دے اور جبرائیل علیہ اسلام کو حکم ھوتا ھے کہ زمین پر جاؤ اور سرکش شیاطین کو قید کرو اور گلے میں طوق ڈال کر دریا میں پھینک دو کہ میرے محبوب ﷺ کی امت کے روزوں کو خراب نہ کریں نبیﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہہ حق تعلیٰ شانہ رمضان کی ہر رات میں منادی کو حکم فرماتے ہیں کہ تین مرتبہ یہ آواز دے ھے کوئ مانگنے والا کہ میں عطا کروں ہے کوئ توبہ کرنے والا کہ میں اسکی توبہ قبول کروں کوئ ہے مغفرت چاھنے والاکہ اس کی مغفرت کروں کون ھے جو غنی کو قرض دے ایسا غنی جو نادار نہیں ایسا پورا پورا ادا کرنے والا جو زرا بھی کمی نہیں کرتا حضور ﷺ نے فرمایاکہ حق تعالیٰ شانہ رمضان میں روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ آدمیوں کو جہنم سے خلاصی مرحمت فرماتے ھیں جو جہنم کے مستحق ھو چکے تھے اور جب رمضان کا آخری دن ھوتا ھے تو یکم رمضان سے آج تک جس قدر لوگ جہنم سے آزاد کیۓ گیۓ تھے اس کے برابر اس ایک دن میں آزاد فرماتے ھیں اور جس رات شب قدر ھوتی ھے تو حق تعالٰی شانہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم فرماتے ھیں وہ فرشتوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ زمین پر اترتے ھیں انکے ہاتھ ایک سبز جھنڈا ھوتا ھے جسکو کعبہ کے اوپر کھڑا کرتے ھیں اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے سو بازوو ہیں جن میں سے دو بازؤں کو صرف اسی رات کھولتے ھیں جن کو مشرق سے مغرب تک پھیلا دیتے ھیں پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کو تقاضہ فرماتے ھیں کہ جو مسلمان آج کی رات کھرا ھو یا بیٹھا ھونماز پڑھ رھا ھو یا ذکر کر رھا ھواسکو سلام کریں مصافحہ کریں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہیں صبح تک یہی حالت رھتی ھے جب صبح ھو جاتی ھے تو جبرائیل علیہ السلام آواز دیتے ھیں کہ اے فرشتوں کی جماعت اب کوچ کرو اور چلو فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھتے ھیں کہ اللہ تعالٰی نے احمد ﷺ کی امت کے مومنوں کی حاجتوں اور ضرورتوں میں کیا معاملہ فرمایا وہ کہتے ھیں کہ اللہ تعالٰی نے ان پر توجہ فرمائ اور چار شخصوں کے علاوہ سب کو معاف کر دیا صحابہ رضوان اللہ تعالٰی عنہم اجمٰعین نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ وہ چار شخص کون ھیں ارشاد ہوا ایک وہ شخص جوشراب کا عادی ہو}{دوسرا وہ شخص جو والدین کی نافرمانی کرنے والا ہو}{ تیسرا وہ شخص جو قطعی رحمی کرنے والا ہوناطہ توڑنے والا ہو}{چوتھا وہ شخص جو کینہ رکھنے والا ھو اور آپس میں قطع تعلق رکھنے والا ھو پھر جب عید الفطر کی رات ھوتی ھے تو اسکا نام آسمانوں پر لیلةُ الجائزہ {انعام کی رات } لیا جاتا ھے اور عید کی صبح ھوتی ھے تو حق تعالٰی شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ھیں وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں راستوں کے سروں پر کھڑے ھو جاتے ھیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ھے پکارتے ھیں کہ اے محمد ﷺ کی امت اس کریم رب کی درگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ھے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ھے پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ھیں تو حق تعالٰی شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ھیں کیا بدلہ اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کر چکا ھو وہ عرض کرتے ھیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ھے کہ اسکی مزدوری پوری پوری دے دی جاۓ تو حق تعالٰی ارشاد فرماتے ھیں کہ اے فرشتو میں تمہے گواہ بناتا ھوں میں نے انکو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطاء کر دی اور بندو سے خطاب فرما کر ارشاد ھوتا ھے کہ اے میرے بندو مجھ سے مانگو میری عزت کی قسم میرے جلال کی قسم آج کے دن اپنے اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے عطا کروں گا ۔ اور دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا۔ میری عزت کی قسم کہ جب تک تم میرا خیال رکھو گے ۔ میں تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا{ انکو چھپاتا رھوں گا} میری عزت کی قسم میرے جلال کی قسم تمہیں مجرموں {اور کافروں } کے سامنے رسوا اور فضیحت نہ کروں گا پس اب بخشے بخشاۓ اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ تم نے مجھ کو راضی کر دیا اور میں تم سے راضی ھو گیا پس فرشتے اس اجرو ثواب کو دیکھ کر جو اس امت کو افطار کے دن ملتا ھے خوشیاں مناتے ھیں اور کھل جاتے ھیں اللھُمَ اجعلنَا مِنھُم یہ مکمل حدیث ھے اسکو توجہ سے پڑھو اور اپنے مالک کی رحیمی کریمی کی اس امت پر برسات دیکھو اللہ ہم کو اس رمضان کی قدر اور حفاظت کرنے کی توفیق مرحمت فرماۓ آمین ثم آمین
-
Barish....... Barish! Tu jab band kawaron aur dilon per dastak deti hai Sari baaten keh janey ko dil karta hai... Terey sath hi beh janey ko dil karta hai!!!!
- 1 reply
-
- 1
-
-
حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہو تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک Happy Brith Day Shahabi