اداسی بول! یہ تو نے بدلے کتنے بھیس؟ بتااب تیرا کون سا دیس؟ بتا کس حال میں ہے سانول؟ کہ جس کے ہجر میں بیٹھے جل وہ کس نگری میں ہے آباد؟ بتا کیا ہم ہیں اس کو یاد؟ اداسی دیکھ! تو چپ مت رہ ترے جو منہ میں آئے کہہ ہمیں توجیسے چاہے رول مگر کچھ بول ہمیں بتلا کہ اب بھی اتنے ہی شیریں ہیں اس کے لب؟
We have placed cookies on your device to help make this website better. You can adjust your cookie settings, otherwise we'll assume you're okay to continue.