ZartashiaAli 2 Posted July 4, 2011 وصال رت کی پھیلی دستک ہی سرزنش تھی کہ ہجر مو سم نے رستے رستے سفر کا آغاز کیا تمھارے ہاتھون کا لمس جپ میری وفا ہتھیلیوں پر حنا بنے گا تو سوچ لوں گی رفاقتوں کا سنہرا سورچ غروپ کے امتحان ہیں ہمارے پاغوں سے گر تتلیوں کی خوشپو نہ گزر پائے تو یہ نہ کہنا کی تتلیوں نے گلاپ رستے پدلئے ہیں اگر کوئ شام یوں پھی آئےکہ ہم تم لگے پرائے تو جان لینا کے شام پس تھی شپ کی تاریکیوں کے ہاتھوں تمہاری خواہش کی مٹھیاں بے دھانیون مین کپھی کھلیں تو یقین کرنا کہ مری چاہت کےجگنؤوں نے تمہارے ہاتھوں کے لمس تازہ کی خواہشوں نے پڑے گھنیرےاندھیرے کاٹے مگر یہ خدشے، وسوسے تو تکلقا”ہیں ہم اپنے جذبوں کو منجمد رائیگانیوں کے سپرد کر کے یہ سوچ لیں گے کہ ہجر موسم تو وصل کی پہیلی شام سے ہی سفر کا آغاز کر چکا تھا Share this post Link to post Share on other sites