Hoorainraza 38 Posted July 4, 2011 تمہیں ضد ہے کہ میں کہہ دوں مجھے ضد ہے کہ تم کہہ دو مجھے تم سے محبت ہے کہو مجھ سے محبت ہے نہیں یہ جانتے دونوں محبت کب محتاج ہوتی ہے لفظوں کی ،باتوں کی محبت تو ہماری دھڑکنوں کے ساز میں شامل سُریلے گیت کی مانند محبت یاد کی دیوی جو تنہا رات کو اکثر آتی ہے آنکھوں میں محبت مسکراہٹ ہے حسیں نازک سے ہونٹوں میں محبت صندلی ہاتھوں کی نازک لرزشوں میں ہے محبت سوچ کی گہرائیوں سے پھوٹتی خوشبو ہمیشہ ساتھ رہتی ہے محبت آنکھ میں پلتا ہوا پُر اسرار سا جذبہ جسے اب تک نہیں کوئی سمجھ پایا نہ اس کی کوئی صورت ہے نہ اس کا کوئی پیمانہ ڈھکے الفاظ میں اس کا بہت اظہار ہوتا ہے کچھ ایسے ہی کہ جیسے اب تہہِ دل سے تو ہم دونوں اقرار کرتے ہیں مگر پھر بھی نجانے کیوں تمہیں ضد ہے کہ میں کہہ دوں مجھے ضد ہے کہ تم کہہ دو مجھے تم سے محبت ہے کہو مجھ سے محبت ہے Share this post Link to post Share on other sites