Jump to content
CooLYar Forums - A Friendly Community by CooLYar
Sign in to follow this  
ZartashiaAli

رفاقت

Recommended Posts

رفاقت

رفاقت کی تمنا سرشت آدم ہے۔ انسان کو ہر مقام پر رفیق کی ضرورت ہے۔ جنت بھی انسان کو تسکین نہیں دے سکتی، اگر اس میں کوئی ساتھی نہ ہو، کوئی اور انسان نہ ہو، کوئی ہمراز نہ ہو، کوئی سننے والا نہ ہو، کوئی سنانے والا نہ ہو، آسمانوں پر بھی انسان کو انسان کی تمنا رہی اور زمین پر بھی انسان کو انسان کی طلب سے مفر ممکن نہیں۔

تنہائی صرف اسی کو زیب دیتی ہے جو"لا شریک" ہے، جو ماں باپ اور اولاد سے بےنیاز ہے۔

لامکاں میں رہنے والا تنہا رہ سکتا ہے، لیکن زمین پر رہنے والا تہنا نہیں رہ سکتا۔ یہ انسان کی ضرورت بھی ہے اور اس کی فطرت بھی۔

انسان کسی مقام پر تنہا نہیں رہ سکتا۔ قبل از پیدائش اور بعد از مرگ کے حالات تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن زندگی میں انسان پر کوئی دور نہیں آتا جب وہ تنہا ہو، نہ جنازہ تنہا نہ شادی تنہا۔

رات کے گہرے سناٹے میں اپنی کرسی پر اکیلا بیٹھا ہو انسان بھی اکیلا ہوتا ہے۔ اسے ماضی کی صدائیں آتی ہیں۔ اس کے ساتھ وہ نظارے بھی ہوتے ہیں جو اس کے سامنے نہیں ہوتے۔ یادوں کے گلاب کھلتے ہیں۔ جلتی، بجھتی آنکھوں کے طلسمات وا ہوتے ہیں۔ حسین پیکروں کے خطوط ابھرتے ہیں، ڈوبتےہیں۔ گزرے ایام پھر سے رخصت ہونا شروع ہوتے ہیں۔ خشک شاخیں زخموں کی طرح پھر سے ہری ہوتی ہیں اور اسی سناٹے میں آوازیں شروع ہوتی ہیں۔ اور یوں تنہائی میں تنہائی ممکن نہیں ہوتی۔

(دل،دریا،سمندر واصف علی واصف)

Share this post


Link to post
Share on other sites

Good Shareing !

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×

Important Information

We have placed cookies on your device to help make this website better. You can adjust your cookie settings, otherwise we'll assume you're okay to continue.