Emaad 56 Posted October 22, 2011 اسپین کے سفر کے دوران جو چیز علامہ اقبال کے لیے سب سے زیادہ دلچسپی کا باعث بنی، وہ مسجدِ قرطبہ تھی جو مسلمانوں کے اسپین میں سات سو سالہ دورِ حکومت کے گواہ کے طور پر موجود تھی اور بڑی شان سے ایستادہ تھی۔ اس مسجد کو گرجا گھر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اقبال نہ صرف اس مسجد کو دیکھنا چاہتے تھے بلکہ یہاں نماز بھی پڑھنا چاہتے تھے، لیکن رکاوٹ یہ تھی کہ اسپین کے قانون کے مطابق اس مسجد میں* اذان دینا اور نماز پڑھنا ممنوع تھا۔ پروفیسر آرنلڈ کی کوشش سے اقبال کو اس شرط کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی کہ وہ مسجد کے اندر داخل ہوتے ہی اندر سے دروازہ مقفل کر دیں۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی اقبال نے اپنی آواز کی پوری قوت کے ساتھ اذان دی "اللہ اکبر، اللہ اکبر"۔ سات سو سال کے طویل عرصے میں یہ پہلی اذان تھی جو مسجد کے در و دیوار سے بلند ہوئی۔ اذان کے فارغ ہونے کے بعد اقبال نے مصلٰی بچھایا اور دو رکعت نماز ادا کی۔ نماز میں آپ پر اس قدر رقت طاری ہو گئی کہ گریہ و زاری برداشت نہ کر سکے اور سجدے کی حالت میں بے ہوش ہو گئے۔ جب آپ ہوش میں آئے تو آنکھوں* سے آنسو نکل کہ رخساروں پر سے بہہ رہے تھے اور سکونِ قلب حاصل ہو چکا تھا۔ جب آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے تو یکایک اشعار کا نزول ہونے لگا، حتٰی کہ پوری دعا اشعار کی صورت میں مانگی۔ اس دعا کے چند اشعار یہاں نقل کیے جاتے ہیں ہے یہی میری نماز ، ہے یہی میرا وضو میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہو راہ محبت میں ہے کون کسی کا رفیق ساتھ مرے رہ گئی، ایک مری آرزو تجھ سے گریباں مرا مطلع صبح نشور تجھ سے مرے سینے میں آتش 'اللہ ھو' تجھ سے مری زندگی سوز و تب و درد و داغ تو ہی مری آرزو ، تو ہی مری جستجو پھر وہ شراب کہن مجھ کو عطا کر، کہ میں ڈھونڈ رہا ہوں اسے توڑ کے جام و سبو تیری خدائی سے ہے میرے جنوں کو گلہ اپنے لیے لامکاں ، میرے لیے چار سو! فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا حرف تمنا ، جسے کہہ نہ سکیں رو برو Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted October 22, 2011 great,,,sho shweet,,, nice sharing bro Share this post Link to post Share on other sites
Hoorainraza 38 Posted October 22, 2011 zabardast Emaad Share this post Link to post Share on other sites