Jump to content
CooLYar Forums - A Friendly Community by CooLYar
shy

Soch...

Recommended Posts

جب بھی سوچا کہ شبِ ہجر نہ ہوگی روشن

مجھ کو سمجھانے تیری یاد کے جگنو آئے

Share this post


Link to post
Share on other sites

تیرے خوشبو میں بسے خط میں جلاتا کیسے

پیار میں ڈوبے ہوئے خط میں جلاتا کیسے

تیرے ہاتھوں کے لکھے خط میں جلاتا کیسے

جن کو دنیا کی نگاہوں سے چھپائے رکھا

جن کو ایک عمر کلیجے سے لگائے رکھا

دین جن کو جنھیں ایمان بنائے رکھا

تیرے خوشبو میں بسے خط میں جلاتا کیسے

جن کا ہر لفظ مجھے یاد ہے پانی کی طرح

یاد تھے مجھ کو جو پیغام زبانی کی طرح

مجھ کو پیارے تھے جو انمول نشانی کی طرح

تیرے خوشبو میں بسے خط میں جلاتا کیسے

تو نے دنیا کی نگاہوں سے جو بچ کر لکھے

سال ہا سال میرے نام برابر لکھے

کبھی دن میں تو کبھی رات کو اٹھ کر لکھے

تیرے خوشبو میں بسے خط میں جلاتا کیسے

پیار میں ڈوبے ہوئے خط میں جلاتا کیسے

تیرے ہاتھوں کے لکھے خط میں جلاتا کیسے

تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں

آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں

Share this post


Link to post
Share on other sites

ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو

اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اُس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو

بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو

کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو

حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

Share this post


Link to post
Share on other sites

عشق ایسا عجیب دریا ہے

جو بنا ساحلوں کے بہتا ہے

ہیں غنیمت یہ چار لمحے

پھر نہ ہم ہیں، نہ یہ تماشا ہے

زندگی اک دکان کھلونوں کی

وقت بگڑا ہوا سا بچہ ہے

اے سرابوں میں گھومنے والے

دل کے اندر بھی ایک رستہ ہے

اس بھری کائنات کے ہوتے

آدمی کس قدر اکیلا ہے

آئنے میں جو عکس ہے امجد

کیوں کسی دوسرے کا لگتا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام

دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ تیرا ہوں میں

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہے شوق اور ضبطِ شوق میں، دن رات کشمکش

دل مجھ کو، میں ہوں دل کو پریشاں کیے ہوئے

Share this post


Link to post
Share on other sites

پلٹ کے دیکھ ذرا میرے شیشہ رو مجھ میں

تیرے جمال کا پرتو ھے چار سو مجھ میں

میں شہرِ ذات سے نکلوں تو اب کدھر جاؤں؟

دکھائی دینے لگا ھے جہاں کو تو مجھ میں

گزر گیا مجھے صدیوں کی تشنگی دے کر

وہ ایک پل کہ بھرا تھا میرا سبو مجھ میں

مآل دیدہء حسرت ھے نقش نقش تیرا

تو نقش ھو جا کسی طرح ہو بہو مجھ میں

ھے بارگاہِ محبت میں کون سجدہ نیاز

کہ تیری یاد تو بیٹھی ھے بے وضو مجھ میں

یہ دل دیارِ محبت میں خاک ھو جاۓ

کبھی نہ مانند پڑے تیری آرزو مجھ میں

سماعتوں میں کھنکتے ھیں نقرئی گھنگرو

تو ھر گھڑی ھے کہیں محوِ گفتگو مجھ میں

محاذِ عشق پہ خود کو بناۓ رکھا ڈھال

چھپا ھوا تھا تیرے نام کا عدو مجھ میں

Share this post


Link to post
Share on other sites

وجود کی بساط پر بڑی عجیب مات تھی

یقین لٹا کے اٹھ گئے، گماں بچا کے رکھ دیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

میری آنکھیں میرے سب خواب کھونا چاہتی ہے

کوئی طاقت میری کشتی ڈبونا چاہتی ہے

کوئی دکھ ہو تمنا یا کوئی حسرت ملے بس

یہ قمست کھیلنے کو اک کھلونا چاہتی ہے

سنو جاتے ہوئے تم کھڑکیاں بھی بند کر جاؤ

میرے گھر میں میری تنہائی رونا چاہتی ہے

اٹھاؤ اپنی یادوں کو یہاں سے دور لے جاؤ

وفا اب تھک چکی اتنی کہ سونا چاہتی ہے

محبت بھی عجب شے ہے کبھی چھپتی پھرے خود

جتاتی ہے کبھی رسوا بھی ہونا چاہتی ہے

تباہی در پہ میرے دستکیں دینے لگی اب

تیری چاہت میرے دل میں سمونا چاہتی ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

نہ جانے کیوں مگر دل چاہتا ہے کہ

وفا کو آگ لگ جائے محبت بھاڑ میں جائے

Share this post


Link to post
Share on other sites

لمحہ لمحہ ھو رھے ھیں زندگی سے ھم بعید

لحظہ لحظہ موت کی جانب بڑھتے جاتے ھیں ھم

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں جو مصروف نظر آتا ھوں

بہت مجبور بھی هو سکتا ھوں

Share this post


Link to post
Share on other sites

وہ جو میں ھوں ذرا سا باقی ھوں

وہ جو تم تھے مر گئے مجھ میں

Share this post


Link to post
Share on other sites

آنکھوں کو التباس بہت دیکھنے میں تھے

کل شب عجیب عکس میرے آئینے میں تھے

ہر بات جانتے ہوئے دل مانتا نہ تھا

ہم جانے اعتبار کے کس مرحلے میں تھے

وصل و فراق دونوں ہیں اک جیسے ناگزیر

کچھ لطف اُس کے قرب میں، کچھ فاصلے میں تھے

آندھی اڑا کے لے گئی جس کو ابھی ابھی

منزل کے سب نشان اُسی راستے میں تھے

چُھو لیں اُسے کہ دور سے بس دیکھتے رہیں

تارے بھی رات میری طرح، مخمصے میں تھے

جگنو، ستارے، آنکھ، صبا، تتلیاں، چراغ

سب اپنے اپنے غم کے کسی سلسلے میں تھے

جتنے تھے خط تمام کا تھا ایک زاویہ

پھر بھی عجیب پیچ میرے مسئلے میں تھے

امجد! کتابِ جاں کو وہ پڑھتا بھی کس طرح

لکھنے تھے جتنے لفظ، ابھی حافظے میں تھے....

امجد اسلام امجد

Share this post


Link to post
Share on other sites

ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻃﺮﺯِ ﺗﺨﺎﻃﺐ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺏ ﮨﮯ ﻣﺤﺴﻦ

ﺭﮐﺎ ﺭﮐﺎ ﺳﺎ ﺗﺒﺴﻢ ﺧﻔﺎ ﺧﻔﺎ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ

Share this post


Link to post
Share on other sites

ek umar jisne shor kiya dil mein

woh bohat kam raha aankhon mein...

Share this post


Link to post
Share on other sites

go ke tujh se bohat ikhtelaaf bhi na huwa

lekin teri janib se yeh dil saaf bhi na huwa

taluqaat ke barzakh mein rakha mujh ko har dum

woh mere haq mein na khilaaf bhi na huwa...

Share this post


Link to post
Share on other sites

انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ

وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ؟

یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائیگاں نہ جائیں

کسی یاد کو پکارو کسی درد کو جگاؤ

وہ کہانیاں ادھوری جو نہ ہو سکیں گی پوری

انہیں میں بھی کیوں سناؤں انہیں تم بھی کیوں سناؤ؟

یہ جدائیوں کے رستے بڑی دور تک گئے ہیں

جو گیا وہ پھر نہ آیا میری بات مان جاؤ

کسی بے وفا کی خاطر یہ جنوں فراز! کب تک؟

جو تمہیں بھلا چکا ہے اسے تم بھی بھول جاؤ....

احمد فراز

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×

Important Information

We have placed cookies on your device to help make this website better. You can adjust your cookie settings, otherwise we'll assume you're okay to continue.