shy 468 Posted November 10, 2013 ہاتھ کی لکیروں میںکیا تلاش کرتے ہو..ان فضول باتوں میںکس لئے الجھتے ہو..جس کو ملنا ہوتا ہےبن لکیر دیکھے ہی..زندگی کے راستوں پرساتھ ساتھ چلتا ہے..پھر کہاں بچھڑتا ہےجو نہیں مقدر میں..کب وہ ساتھ چلتا ہےہاتھ کی لکیروں میںکیا تلاش کرتے ہو۔ Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 10, 2013 ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﮐﮫ ﮨﯽ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻧﮑﻠﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁ ﮔﺌﮯﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﺴﺎ ﻟﯿﺎﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﺠﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﻋﺪﮦ ﻭﻓﺎ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ ﻭﮦﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﭗ ﺟﻼﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﺍﻣﻦِ ﺩﻝ ﺩﺍﻍ ﺩﺍﻍ ﺗﮭﺎﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﺍﻍ ﻣﭩﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮔﺌﮯﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮭﻼﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﮐﮫ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮨﻮ ﮔﺌﮯﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﻋﺪﮮ ﻧﺒﮭﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﺑﮍﮬﺘﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺭﻧﺞ ﺑﮭﻼﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﻏﯿﺎﺙﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 10, 2013 خود کو کردار سے اوجھل نہیں ہونے دیتاوہ کہانی کو مکمل نہیں ہونے دیتاسنگ بھی پھینکتا رہتا ہے کہیں ساحل سےاور پانی میں بھی ہلچل نہیں ہونے دیتاکاسہء خواب سے تعبیر اُٹھا لیتا ہےپھر بھی آبادی کو جنگل نہیں ہونے دیتادھوپ میں چھائوں بھی رکھتا ہے سروں پر ، لیکنآسماں پر کہیں بادل نہیں ہونے دیتاابر بھی بھیجتا رہتا ہے سدا بستی میںگلی کوچوں میں بھی جل تھل نہیں ہونے دیتاروز اک لہر اُٹھا لاتا ہے بے خوابی کیاور پلکوں کو بھی بوجھل نہیں ہونے دیتاپھول ہی پھول کھلاتا ہے سرِ شاخِِ وُجوداور خوشبو کو مسلسل نہیں ہونے دیتاعالمِ ذات میں درویش بنا دیتا ہےعشق انسان کو پاگل نہیں ہونے دیتا Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 10, 2013 ذرا سی دیر کو منظر سُہانے لگتے ہیں ۔۔پھر اُس کے بعد یہی قید خانے لگتے ہیں ۔۔میں سوچتا ہوں کہ تو دربدر نہ ہو، ورنہ ۔۔تجھے بھلانے میں کوئی زمانے لگتے ہیں ۔۔کبھی جو حد سے بڑھے دل میں تیری یاد کا حبّس ۔۔کھلی فضا میں تجھے گنگنانے لگتے ہیں ۔۔جو تو نہیں ہے تو تجھ سے کئے ہوئے وعدے ۔۔ہم اپنے آپ سے خود ہی نبھانے لگتے ہیں ۔۔عجیب کھیل ہے جلتے ہیں اپنی آگ میں ہم ۔۔پھر اپنی راکھ بھی خود ہی اُڑانے لگتے ہیں ۔۔یہ آنے والے زمانے مرے سہی، لیکن ۔۔گذشتہ عمر کے سائے ڈرانے لگتے ہیں ۔۔نگار خانہء ہستی میں کیسا پائے ثبات ۔۔کہیں کہیں تو قدم ڈگمگانے لگتے ہیں ۔۔! Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 12, 2013 Bichar kar kaarwan se rah_roo aisa howa tanha.Thaka tanha, gira tanha, utha tanha, chala tanha. Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 15, 2013 نجانے کونسی منزل کی جستجو تھی مجھےتمام عمر چلا پھر بھی رہ گزر میں رہا Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 15, 2013 "The way to Youlies clearly in my heartand cannot be seen or known to the mind.As my words turn to silence,Your sweetness surrounds me."--Hakim Sanai Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 15, 2013 Your fragrance is always with me.Your Face never leaves my sight.Day and night I’ve been longing for You.My life is spent, but by desire for You remains.Divan-e Shams-e Tabrizi Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 17, 2013 یہ انتظار نہ ٹھہرا کوئی بلا ٹھہریکسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 21, 2013 تجھے خواب ہی میں دیکھوں یہ بھرم بھی آج ٹوٹا...تیرے خواب کیسے دیکھوں مجھے نیند ہی نہ آیی Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 23, 2013 bethasa Mohabbaton K Ameen Bewaja chor bhi tu jatay hain... Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 23, 2013 یہ جو اِک شب و روز بپا ہے مُجھ میںہو نہ ہو اور بھی کچھ میرے سِوا ہے مُجھ میں Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 23, 2013 ﮐﺮﺏ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﺎﻩ ﻭ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﻫﻮﻳﺎ ﺟﺎﺋﮯﺁﺝ ﻓﺮﺻﺖ ﮨﮯ، ﮐﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯﺍﺗﻨﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺗﻮ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﻧﮭﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﭼﮩﺮﮮﮔﺮﺩ ﺁﻟﻮﺩ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﺩﻫﻮﻳﺎ ﺟﺎﺋﮯﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ، ﺟﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﻴﺰﺍﺭ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﮒﺍﺱ ﺍﻟﻤﯿﮯ ﭘﮧ ﮨﻨﺴﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 23, 2013 گِنو نہ زخم، نہ دِل سے اَذّیتیں پوچھو جو ہو سکے تو حریفوں کی نِیتیں پوچھو ہوا کی سَمت نہ دیکھو، اُسے تو آنا ہے ۔چراغِ آخرِ شب سے وصیتیں پوچھو اُجڑ چُکے ہو تو اب خُود پہ سوچنا کیسا۔۔؟؟کہا تھا کِس نے کہ اُس کی مشیتیں پوچھو !سناں پہ سج گئے لیکن، جُھکے نہ سر اپنے سِتمگروں سے ہماری حمیتیں پوچھو ہزار زخم سہو پھر بھی چُپ رہو محسن ۔نہیں ضُرور کہ یاروں کی نِیتیں پوچھو Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 23, 2013 ﮨﺮ ﭼﻨﺪ ﮐﮧ ﺟﺰﺍ ﮐﮯ ﻃﻠﺒﮕﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯﮨﻢ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﻖ ﺍﺩﺍ ﮨﻮﺍﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯﻣﺸﺮﮎ ﮨﻮﮰ ﺗﮭﮯ ﮬﻢ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻣﺮﺗﺪ ﮨﻮﮰ ﮐﺒﮭﯽﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯﺩﻝ ﮨﺎﺭ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺍﻧﺎ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﺎ ﭘﺎﺱﮬﻢ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩﺩﺍﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮬﻤﯿﮟ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻧﮧ ﻣﻠﮯﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻓﮑﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯﮔﺬﺭﯼ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ ﮐﮍﯼ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼﺭﺳﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺳﺎﮰ ﺍﻭﺭ ﺍﺷﺠﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯ ﮬﻢ ﺳﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﻭﻓﺎ ﺑﻼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﺪﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﺿﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺩﺍﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯ Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 23, 2013 کبھی اِس جہاں کی بندش کبھی لامکاں کی بندشمیں جہاں جہاں سے نکلا مجھے اُس جہاں کی بندشمیں زمانے گن رہا ہوں، میں فسانے چن رہا ہوںمرے لیکھ لکھنے والے، مجھے امتحاں کی بندشمیں کہاں کہاں گرا ہوں، میں کہاں کہاں مرا ہوںکہیں دوستوں کی عزّت کہیں رفتگاں کی بندشمرا سلسلہ کہاں تک، مرا راستہ کہاں تکمری سرحدوں کے مالک، کبھی کھول جاں کی بندشمجھے بخش میرا چہرہ، مجھے بخش دے سراپامیں کہانیوں کا باسی مجھے داستاں کی بندش Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 23, 2013 گہرے سمندروں میں اترنے کی لے کے آسبیٹھے ہوئے ہیں ایک کنارے ہمارے خواب Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 23, 2013 اُسے جانے کی جلدی تھی، سو میں آنکھوں ہی آنکھوں میںجہاں تک چھوڑ سکتا تھا ___________ وہاں تک چھوڑ آیا ہوں Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 25, 2013 ہر قدم مرحلہء دار و صلیب آج بھی ہےجو کبھی تھا، وہی انساں کا نصیب آج بھی ہےجگمگاتے ہیں افق پر تو ستارے لیکنراستہ منزلِ ہستی کا مہیب آج بھی ہےسرِ مقتل جنہیں جانا تھا وہ جا بھی پہنچےسرِ منزل کوئی محتاط خطیب آج بھی ہےیہ تری یاد ہے یا میری اذیت کوشیایک نشتر سا رگِ جاں کے قریب آج بھی ہےکون جانے یہ ترا شاعرِ آشفتہ مزاجکتنے مغرور خداؤں کا رقیب آج بھی ہے.ساحر لدھیانوی Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted November 25, 2013 سُنو قلم کے مُہِمّات جاننے والودل ِ حیات کے ضربات جاننے والومِزاج ِ ارض و سماوات جاننے والوادب کے جُملہ مَقامات جاننے والوتمھیں نہ صِرف شبستاں میں جاکےلِکھنا ہے ہر ایک عہد کے زنداں میں جاکے لِکھنا ہے مصطفیٰ زیدی Share this post Link to post Share on other sites