Hoorainraza 38 Posted July 2, 2012 ہم خود کو کتنی بار یہ سمجھا کے رو پڑے..!!! خوشیاں ہمارے پاس کہاں مستقل رہیں باہر کبھی ہنسے بھی تو گھر آ کے رو پڑے بے اعتبار وقت پہ جھنجھلا کے رو پڑے کھو کر کبھی اسے تو کبھی پا کے رو پڑے Share this post Link to post Share on other sites