Hoorainraza 38 Posted August 10, 2013 برسوں کے بعد دیکھا ای شخص دلربا سا اب ذہن میں نہیں ہے پر نام تھا بھلا سا ابرو کھنچی کھنچی سی آنکھیں جھکی جھکی سی باتیں رکی رکی سی لحجہ تھکا تھکا سا الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر میں بن جائے جنگلوں میں جس طرح راستہ سا خوابوں میں خواب اس کے یادوں میں یاد اس کی نیندوں میں گھل گیا ہو جیسے کہ رت جگا سا پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی میں وہ ہر طرح سے لیکن اوروں سے تھا جدا سا اگلی محبتوں نے وہ نامرادیاں دیں تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا کچھ یہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہیں تھے روئے کچھ ظاہر میں بجھا تھا احباب کا دلاسا پھر یوں ہوا کہ ساون آنکھوں میں آ بسا تھا پھر یوں ہوا کہ جیسے دل بھی تھا آبلہ سا اب سچ کہنا تو یارو ہم کو خبر نہیں تھی بن جائے گا قیامت اک واقعہ ذرا سا تیور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے وہ اجنبی تھا لیکن لگتا تھا آشنا سا ہم نے بھی اس کو دیکھا کل شام اتفاقاً اپنا بھی حال ہے اب لوگو ‘فراز‘ کا سا (احمد فراز) 1 Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted August 10, 2013 bohat achi poetry... Share this post Link to post Share on other sites
Hoorainraza 38 Posted August 30, 2013 Thanks sho_shweet Shy Share this post Link to post Share on other sites