shy 468 Posted August 11, 2013 موسم بدل گیا تھا۔۔۔ خشک ہوا کے ساتھ ڈھیروں ڈھیر پتے بکھرتے اور سرِ شام ہی اندھیرا چھا جاتا۔۔۔ آسمان پر ہمہ وقت ایک غبار سا چھایا رہتا جس میں نقل مکانی کرتے پرندے دکھائی دینے لگے تھے۔۔ ایسے میں ٹنڈ منڈ درختوں پر ٹنگے جھاڑ جھنکار بے مکین گھونسلے بڑے آزردہ سے نظر آتے۔۔ " میں بھی کسی ایسے ہی درخت کی طرح ہوں۔۔۔" بڑی دلگرفتگی سے سوچتے ہوئے اس نے دو زانو کے گرد بازو لپیٹ کر پیشانی گھٹنوں پر ٹکا دی اور کونے میں ایستادہ ہار سنگھار کے درخت کو دیکھنے لگی، جس کی شاخوں سے جڑے پتوں کی رنگت ذرد پڑنے لگی تھی۔۔۔ "وہ وقت دور نہیں جب امید اور آس کے یہ باقی پتے بھی جھڑ جائیں گے، اور میں ہو بہو اس درخت کی طرح ہو جاؤں گی۔۔۔۔ خالی۔۔۔۔ بدنما اور۔۔۔۔ اور زندگی سے عاری۔۔۔" اس کی آنکھ میں ایک ننھا سا ستارہ ابھر آیا تھا۔۔۔۔ ( آمنہ ریاض کے ناول" محبت زیست کا حاصل " سے اقتباس Share this post Link to post Share on other sites