sho_shweet 657 Posted August 8, 2014 ہے دعا یاد مگرحرفِ دعا یاد نہیںمیرے نغمات کو اندازِ نوا یاد نہیںہم نے جن کے لیے راہوں میں بچھایاتھا لہوہم سے کہتے ہیں وہی عہدِ وفا یاد نہیںزندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہےجانےکس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیںمیں نے پلکوں پہ درِ یار سے دستک دی ہےمیں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیںکیسے بھر آئیں سرِ شام کسی کی آنکھیںکسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیںصرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہےکب ہوا کون ہوا مجھ سے خفا یاد نہیںآؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میںلوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں 1 Share this post Link to post Share on other sites
daineee 211 Posted April 6, 2016 اتنے اچھے موسم میں روٹھنا نہیں اچھا ھار جیت کی باتیںکل پہ ھم اٹھا رکھیں آج دوستی کر لیں۔ Share this post Link to post Share on other sites