Jump to content
CooLYar Forums - A Friendly Community by CooLYar
Sign in to follow this  
Hoorainraza

Hoorain K Diary Say Kuch

Recommended Posts

2rm2hcl.jpg

Aaj phir woh nazar aai to main ne socha

Kyun na ek aur nazm us par likhon

Kiya karon k woh hay hi asi

K jitna bhi use likha jaey ya phir

Jitna bhi use socha jaey kam hay

Kiya karon k woh hay hi asi

har dafa itni nikhri itni hi ujli

Jaise kirnoo se naha kar loti ho

Jaise ek nai pour umeed subah ka agaaz ho

K jitna bhi use dekha jaey kam hay

Main ne jab bhi us ki aankhon main

Chupi tahreer ko parhna chaha, nakam raha

Ya shayad main itna kareeb us k

Kabhi ja hi na saka

To phir najane kyun use main

Isqadar sochta houn

Par kiya karon k woh hay hi asi

Mil sake na mile dour rah kar bhi use

Haan jitna bhi use chaha jaey kam hay

__________________

Share this post


Link to post
Share on other sites

Mahobbat Ki Haqiqat Se Ham Khoob Waqif Thay"FARAZ"

Bas Yunhi Zara Sa Shauq Hua Tha Zindagi Barbaad Karne Ka..

Share this post


Link to post
Share on other sites

تجھ سے بچھڑے کے ہم تو مقدر کے ہو گئے

پھر جو بھی در ملا اُسی در کے ہو گئے

Share this post


Link to post
Share on other sites

بہت مجبور ہوں ورنہ بہت محسوس کرتا ہوں

مری جاں تم سے ملنے کی ضرورت ایک مدت سے

Share this post


Link to post
Share on other sites

!لاحاصل مُحبّت!

دراصل انسانی وجود کو ایک قبرستان بنا دیتی ہے

جس میں وہ اپنی تِشنہ خواہشات اورنامکمل آرزؤں کی قبریں اُٹھائے پھرتا ہے ۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

محبت آزادی ہے۔ مکمل آزادی۔ حتٰی کہ محبت کے پھندے بھی آزادی ہیں جو شخص بھی اپنے آپ کو محبت کی ڈوری سے باندھ کر محبت کا اسیر ہو جاتا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس لیے میں کہا کرتا ہوں آزادی کی تلاش میں مارے مارے نہ پھرو۔ محبت تلاش نہ کرو۔۔۔۔ آزادی کی تلاش بیسیوں مرتبہ انسان کو انا کے ساتھ باندھ کر اسے نفس کے بندی خانے میں ڈال دیتی ہے۔ محبت کا پہلا قدم اٹھتا ہی اس وقت ہے جب وجود کے اندر سے انا کا بوریا بستر گول ہو جاتا ہے۔ محبت کی تلاش انا کی موت ہے۔ انا کی موت مکمل آزادی ہے۔

.....

انا دنیا پر قبضہ جمانے کا پروگرام بناتی ہے۔ یہ موت سے غایت درجہ خوف کھاتی ہے۔ اس لیے زندگی پر پورا پورا قبضہ حاصل کرنے کا پلان وضع کرتی ہے۔ انا دنیاوی اشیاء کے اندر پرورش پاتی ہے اور مزید زندہ رہنے کے لیے روحانی برتری میں نشوونما حاصل کرنے لگتی ہے۔ اس دنیا کی غلامی اور چاکری کی ڈور انا کے ساتھ بندھی ہے۔ انا خود غلامی ہے، خود محکومی ہے۔ انا کو آزاد کرانا اور اسے غلامی سے نجات دلانا ہمارا کام نہیں۔ ہمارا کام تو خود کو انا کی غلامی اور محکومی سے آزاد کرانا ہے۔ یاد رکھئے انا کبھی بھی اپنایت سے، قربانی سے، مذہب سے، علم سے، علم سے خوفزدہ نہیں ہوتی بلکہ ان سب کے لیے تن من کی بازی لگا دیتی ہے۔ انا اگر خوفزدہ ہے تو صرف محبت سے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

بہت مجبور ہوں ورنہ بہت محسوس کرتا ہوں

مری جاں تم سے ملنے کی ضرورت ایک مدت سے

buhat mehsoos hota hy

tera mehsoos na krna

Share this post


Link to post
Share on other sites

حرکت میں برکت ہے !

--------------------------

کسی گاوں میں ایک نو جوان رہتا تھا۔۔ پڑھائی لکھائی جب ختم ہوئی تو والدین نے نوکری کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ کئی مہینے وہ نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا لیکن کہیں نوکری نہ ملی۔۔ ایک دن تھک ہار کر خود سے بولا رزق تو اللہ کی ذات نے دینا ہے۔ اب میں نوکری کی تلاش میں نہیں پھروں گا بلکہ سکون سے زندگی گزاروں گا۔۔ اللہ رازق ہے تو گھر بیٹھے ہی رزق دے گا۔۔

اسی سوچ کے ساتھ یہ جوان صبح کی سیر کے لئے نکلا

سیر کے بعد گاؤں کے قریب سے گزرنے والی نہر کے کنارے جا کر بیٹھ گیا۔۔ ابھی بیٹھے پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ دیکھا ایک پتہ نیچے کی طرف آ رہا ہے۔۔

چھلانگ لگا کر پتہ پکڑا تو یہ کیا ۔۔۔ پتے پر دو نان اور ان پر حلوہ پڑا تھا۔۔

واہ خدایا ۔۔ واقعی رزق تو کھانے والے تک خود پہنچتا ہے۔۔

حلوہ کھایا بہت لذیذ تھا۔۔

پیٹ بھر کر واپس گھر آ گیا۔۔ ظہر کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا۔۔

ایک بار پھر حلوہ اور نان پتے پر آتے نظر آئے۔۔ اٹھائے اور کھا لئے

مغرب کی نماز کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا ۔۔ اس بار بھی وہی ہوا ۔۔

واہ! رات کے کھانے کا انتظام بھی ہو گیا

اب روزانہ فجر، ظہر اور مغرب کی نماز کے بعد نہر کنارے جا کر بیٹھ جاتا ۔۔ اور روزانہ بلا ناغہ نان اور حلوہ مل جاتے۔۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔۔

ایک دن خیال آیا کہ دیکھوں کہ اللہ تعالٰی کس طرح یہ نان اور حلوہ بھجواتے ہیں۔۔۔ اسی سوچ میں صبح کی نماز کے بعد نہر کی اوپری طرف چل پڑا۔۔ کچھ کلومیٹر ہی گیا ہو گا ۔۔۔ کہ دیکھا۔۔ ایک بابا جی ہیں جو نان اور حلوہ لئے نہر کنارے بیٹھے ہیں۔۔

قریب جا کر دیکھا ۔۔ تو بابا جی نان کے اندر حلوہ رکھتے اور پھر اس گرم گرم حلوے سے اپنی ٹانگ پر نکلے ایک پھوڑے کو ٹیکور کرتے ۔۔ پھر ایک پتے پر نان اور حلوہ رکھ کر نہر میں بہا دیتے ۔۔

جوان کا دل ایک دم خراب ہونا شروع ہو گیا۔ ابکائیاں آنے لگیں

کیا میں اتنے دنوں سے یہ حلوہ اور نان کھا رہا تھا؟

بابا جی سے پوچھا یہ ماجرا کیا ہے؟

بابا جی بولے ، کئی دنوں سے یہ پھوڑا نکلا ہوا تھا ۔۔جس کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔ حکیم کے پاس گیا تو حکیم نے مشورہ دیا کہ روزانہ دن میں تیں بار سوجی کے حلوے کو نان پر رکھ کر اس کی ٹیکور کروں ۔۔ سو میں فجر ، ظہر اور مغرب کے بعد ادھر آ جاتا ہوں ۔۔ نان اور حلوے کی ٹیکور کے بعد نان اور حلوے کو پتے پر رکھ کر نہر میں بہا دیتا ہوں تاکہ خراب ہونے کی بجائے چرند پرند اور مچھلیاں ہی کھا لیں۔۔۔

بے شک اللہ رازق ہے۔۔ رزق اللہ نے ہی دینا ہے۔۔ محنت اور کاہلی کے درمیان پھل کا فرق ہے۔۔ جو محنت کرتے ہیں انھیں پاک اور صاف رزق ملتا ہے۔۔

جو کاہلی میں وقت گزارتے ہیں اور حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں ۔۔رزق تو انہیں بھی ملتا ہے ۔۔ مگر وہ رزق جس میں کراہت اور گندگی ہو۔۔

دنیا امتحان گاہ ہے۔ جہان رحمت اور محنت سے سفر ہوتا ہے ۔۔۔ مقام ملتا ہے۔۔ رحمت نہ ہو تو محنت رائیگاں اور اگر محنت نہ ہو تو رحمت بےثمر ۔

Edited by Hoorainraza

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×

Important Information

We have placed cookies on your device to help make this website better. You can adjust your cookie settings, otherwise we'll assume you're okay to continue.