Hoorainraza 38 Posted July 6, 2011 Aaj phir woh nazar aai to main ne socha Kyun na ek aur nazm us par likhon Kiya karon k woh hay hi asi K jitna bhi use likha jaey ya phir Jitna bhi use socha jaey kam hay Kiya karon k woh hay hi asi har dafa itni nikhri itni hi ujli Jaise kirnoo se naha kar loti ho Jaise ek nai pour umeed subah ka agaaz ho K jitna bhi use dekha jaey kam hay Main ne jab bhi us ki aankhon main Chupi tahreer ko parhna chaha, nakam raha Ya shayad main itna kareeb us k Kabhi ja hi na saka To phir najane kyun use main Isqadar sochta houn Par kiya karon k woh hay hi asi Mil sake na mile dour rah kar bhi use Haan jitna bhi use chaha jaey kam hay __________________ Share this post Link to post Share on other sites
Hoorainraza 38 Posted October 13, 2012 Mahobbat Ki Haqiqat Se Ham Khoob Waqif Thay"FARAZ" Bas Yunhi Zara Sa Shauq Hua Tha Zindagi Barbaad Karne Ka.. Share this post Link to post Share on other sites
Hoorainraza 38 Posted January 14, 2013 تجھ سے بچھڑے کے ہم تو مقدر کے ہو گئے پھر جو بھی در ملا اُسی در کے ہو گئے Share this post Link to post Share on other sites
Hoorainraza 38 Posted January 14, 2013 بہت مجبور ہوں ورنہ بہت محسوس کرتا ہوں مری جاں تم سے ملنے کی ضرورت ایک مدت سے Share this post Link to post Share on other sites
Hoorainraza 38 Posted January 19, 2013 !لاحاصل مُحبّت! دراصل انسانی وجود کو ایک قبرستان بنا دیتی ہے جس میں وہ اپنی تِشنہ خواہشات اورنامکمل آرزؤں کی قبریں اُٹھائے پھرتا ہے ۔۔ Share this post Link to post Share on other sites
Hoorainraza 38 Posted January 19, 2013 محبت آزادی ہے۔ مکمل آزادی۔ حتٰی کہ محبت کے پھندے بھی آزادی ہیں جو شخص بھی اپنے آپ کو محبت کی ڈوری سے باندھ کر محبت کا اسیر ہو جاتا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس لیے میں کہا کرتا ہوں آزادی کی تلاش میں مارے مارے نہ پھرو۔ محبت تلاش نہ کرو۔۔۔۔ آزادی کی تلاش بیسیوں مرتبہ انسان کو انا کے ساتھ باندھ کر اسے نفس کے بندی خانے میں ڈال دیتی ہے۔ محبت کا پہلا قدم اٹھتا ہی اس وقت ہے جب وجود کے اندر سے انا کا بوریا بستر گول ہو جاتا ہے۔ محبت کی تلاش انا کی موت ہے۔ انا کی موت مکمل آزادی ہے۔ ..... انا دنیا پر قبضہ جمانے کا پروگرام بناتی ہے۔ یہ موت سے غایت درجہ خوف کھاتی ہے۔ اس لیے زندگی پر پورا پورا قبضہ حاصل کرنے کا پلان وضع کرتی ہے۔ انا دنیاوی اشیاء کے اندر پرورش پاتی ہے اور مزید زندہ رہنے کے لیے روحانی برتری میں نشوونما حاصل کرنے لگتی ہے۔ اس دنیا کی غلامی اور چاکری کی ڈور انا کے ساتھ بندھی ہے۔ انا خود غلامی ہے، خود محکومی ہے۔ انا کو آزاد کرانا اور اسے غلامی سے نجات دلانا ہمارا کام نہیں۔ ہمارا کام تو خود کو انا کی غلامی اور محکومی سے آزاد کرانا ہے۔ یاد رکھئے انا کبھی بھی اپنایت سے، قربانی سے، مذہب سے، علم سے، علم سے خوفزدہ نہیں ہوتی بلکہ ان سب کے لیے تن من کی بازی لگا دیتی ہے۔ انا اگر خوفزدہ ہے تو صرف محبت سے۔ Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted February 11, 2013 بہت مجبور ہوں ورنہ بہت محسوس کرتا ہوں مری جاں تم سے ملنے کی ضرورت ایک مدت سے buhat mehsoos hota hy tera mehsoos na krna Share this post Link to post Share on other sites
Hoorainraza 38 Posted February 18, 2013 (edited) حرکت میں برکت ہے ! -------------------------- کسی گاوں میں ایک نو جوان رہتا تھا۔۔ پڑھائی لکھائی جب ختم ہوئی تو والدین نے نوکری کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ کئی مہینے وہ نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا لیکن کہیں نوکری نہ ملی۔۔ ایک دن تھک ہار کر خود سے بولا رزق تو اللہ کی ذات نے دینا ہے۔ اب میں نوکری کی تلاش میں نہیں پھروں گا بلکہ سکون سے زندگی گزاروں گا۔۔ اللہ رازق ہے تو گھر بیٹھے ہی رزق دے گا۔۔ اسی سوچ کے ساتھ یہ جوان صبح کی سیر کے لئے نکلا سیر کے بعد گاؤں کے قریب سے گزرنے والی نہر کے کنارے جا کر بیٹھ گیا۔۔ ابھی بیٹھے پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ دیکھا ایک پتہ نیچے کی طرف آ رہا ہے۔۔ چھلانگ لگا کر پتہ پکڑا تو یہ کیا ۔۔۔ پتے پر دو نان اور ان پر حلوہ پڑا تھا۔۔ واہ خدایا ۔۔ واقعی رزق تو کھانے والے تک خود پہنچتا ہے۔۔ حلوہ کھایا بہت لذیذ تھا۔۔ پیٹ بھر کر واپس گھر آ گیا۔۔ ظہر کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا۔۔ ایک بار پھر حلوہ اور نان پتے پر آتے نظر آئے۔۔ اٹھائے اور کھا لئے مغرب کی نماز کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا ۔۔ اس بار بھی وہی ہوا ۔۔ واہ! رات کے کھانے کا انتظام بھی ہو گیا اب روزانہ فجر، ظہر اور مغرب کی نماز کے بعد نہر کنارے جا کر بیٹھ جاتا ۔۔ اور روزانہ بلا ناغہ نان اور حلوہ مل جاتے۔۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔۔ ایک دن خیال آیا کہ دیکھوں کہ اللہ تعالٰی کس طرح یہ نان اور حلوہ بھجواتے ہیں۔۔۔ اسی سوچ میں صبح کی نماز کے بعد نہر کی اوپری طرف چل پڑا۔۔ کچھ کلومیٹر ہی گیا ہو گا ۔۔۔ کہ دیکھا۔۔ ایک بابا جی ہیں جو نان اور حلوہ لئے نہر کنارے بیٹھے ہیں۔۔ قریب جا کر دیکھا ۔۔ تو بابا جی نان کے اندر حلوہ رکھتے اور پھر اس گرم گرم حلوے سے اپنی ٹانگ پر نکلے ایک پھوڑے کو ٹیکور کرتے ۔۔ پھر ایک پتے پر نان اور حلوہ رکھ کر نہر میں بہا دیتے ۔۔ جوان کا دل ایک دم خراب ہونا شروع ہو گیا۔ ابکائیاں آنے لگیں کیا میں اتنے دنوں سے یہ حلوہ اور نان کھا رہا تھا؟ بابا جی سے پوچھا یہ ماجرا کیا ہے؟ بابا جی بولے ، کئی دنوں سے یہ پھوڑا نکلا ہوا تھا ۔۔جس کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔ حکیم کے پاس گیا تو حکیم نے مشورہ دیا کہ روزانہ دن میں تیں بار سوجی کے حلوے کو نان پر رکھ کر اس کی ٹیکور کروں ۔۔ سو میں فجر ، ظہر اور مغرب کے بعد ادھر آ جاتا ہوں ۔۔ نان اور حلوے کی ٹیکور کے بعد نان اور حلوے کو پتے پر رکھ کر نہر میں بہا دیتا ہوں تاکہ خراب ہونے کی بجائے چرند پرند اور مچھلیاں ہی کھا لیں۔۔۔ بے شک اللہ رازق ہے۔۔ رزق اللہ نے ہی دینا ہے۔۔ محنت اور کاہلی کے درمیان پھل کا فرق ہے۔۔ جو محنت کرتے ہیں انھیں پاک اور صاف رزق ملتا ہے۔۔ جو کاہلی میں وقت گزارتے ہیں اور حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں ۔۔رزق تو انہیں بھی ملتا ہے ۔۔ مگر وہ رزق جس میں کراہت اور گندگی ہو۔۔ دنیا امتحان گاہ ہے۔ جہان رحمت اور محنت سے سفر ہوتا ہے ۔۔۔ مقام ملتا ہے۔۔ رحمت نہ ہو تو محنت رائیگاں اور اگر محنت نہ ہو تو رحمت بےثمر ۔ Edited February 18, 2013 by Hoorainraza Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted February 18, 2013 yeah zaberdast sharing :) Share this post Link to post Share on other sites
aamir354pk 94 Posted February 22, 2013 good sharing hoorain Share this post Link to post Share on other sites