Jump to content
CooLYar Forums - A Friendly Community by CooLYar
shy

Soch...

Recommended Posts

Last night my teacher taught me the lesson of poverty,

having nothing and wanting nothing.

Share this post


Link to post
Share on other sites

فکرِ انجام کر انجام سے پہلے پہلے

دن تو تیرا ہے، مگر شام سے پہلے پہلے

کیسے دم توڑ گئیں سینے میں رفتہ رفتہ

حسرتیں، حسرتِ ناکام سے پہلے پہلے

باعثِ فخر ہوا رہزن و قاتل ہونا

گھر اجڑتے تھے اس الزام سے پہلے پہلے

آئے بکنے پہ تو حیرت میں ہمیں ڈال دیا

وہ تو بے مول تھے نیلام سے پہلے پہلے

ہو بھی سکتا ہے، بہت خاص نظر آنے لگیں

وہ جو لگتے ہیں بہت عام سے پہلے پہلے

ہائے وہ وقت کہ طاری تھی محبت ہم پر

ہم بھی چونک اٹھتے تھے اک نام سے، پہلے پہلے

ہم بھی سوتے تھے کوئی یاد سرہانے رکھ کر

ہاں مگر گردشِ ایام سے پہلے پہلے

کس قدر تیز ہوائیں تھیں سرِ شام کہ دل

جل بجھا رات کے ہنگام سے پہلے پہلے

اب کے مشکل وہ پڑی ہے کہ یہ جاں جاتی ہے

سعدؔ رہتے تھے ہم آرام سے پہلے پہلے"

Share this post


Link to post
Share on other sites

ٹھہری ٹھہری ہوئی طبیعت میں روانی آئی

آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی

آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا

آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی

Share this post


Link to post
Share on other sites

Nothing is absolute,

everything changes,

everything moves,

everything revolutionizes,

everything flies and goes away.

~ Frida Kahlo

Share this post


Link to post
Share on other sites

Shikayat Faqt Badalty Huay Lehjon Sy Hai,,,

Hawa,

Patty

aur

Mousam

Kabhi DiL Nahi Torty ..

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہم ہی کچھ کارِ محبت میں تھے انجان بہت

ورنہ نکلے تھے تیرے وصل کے عنوان بہت

دل بھی کیا چیز ہے اب پا کے اُسے سوچتا ہوں

کیا اسی واسطے چھانے تھے بیابان بہت؟

فاصلے راہِ تعلق کے مٹیں گے کیوں کر

حُسن پابندِ انا، عشق تن آسان بہت

اے غمِ عشق! میری آنکھ کو پتھر کر دے

اور بھی ہیں میرے دل پر تیرے احسان بہت....

امجد اسلام امجد

Share this post


Link to post
Share on other sites

ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﺟﺐ ﺍﮌﯾﮟ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ

ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ_ﺭﻧﮓ ﻭ ﺑﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ

ﺭﺍﺕ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﮔﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺗﻠﮯ

ﺗﯿﺮﺍ ﻟﮩﺠﮧ، ﺗﺮﯼ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ

Share this post


Link to post
Share on other sites

<p> </p>

<div>I once had a thousand desires, but in my one desire to know YOU,all else melted away.<br />

<br />

Maulana Jalal-ud-din Rumi</div>

Share this post


Link to post
Share on other sites

ذکرِ شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی

میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا

رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی

اس رات دیر تک وہ رہا محوِ گفتگو

مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی

سنتا تھا میں بھی سب سے پرانی کہانیاں

تازہ رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی

مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخص

حالانکہ شہر بھر سے رقابت اسے بھی تھی

وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا

ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے

تری رہ میں کرتے تھے سر طلب ، سرِ رہگزار چلے گئے

تری کج ادائی سے ہار کے شبِ انتظار چلی گئی

مرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر مرے غم گسار چلے گئے

نہ سوالِ وصل ، نہ عرضِ غم ، نہ حکایتیں نہ شکایتیں

ترے عہد میں دلِ زار کے سبھی اختیار چلے گئے

یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی

یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزمِ یار چلے گئے

نہ رہا جنونِ رُخِ وفا، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا

جنہیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے

Share this post


Link to post
Share on other sites

“Keep walking, though there's no place to get to.

Don't try to see through the distances.

That's not for human beings. Move within,

But don't move the way fear makes you move.”

Rumi

Share this post


Link to post
Share on other sites

میری تحریر میں لِپٹے ہُوئے تابُوت نہ کھول

لفظ جی اُٹھے تَو، تُو خوف سے مَر جائے گا

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام رات میرے گھر کا ایک در کُھلا رہا

میں راہ دیکھتی رہی وہ راستہ بدل گیا

وہ شہر ہے کہ جادوگرنیوں کا کوئی دیس ہے

وہاں تو جوگیا، کبھی بھی لوٹ کر نہ آسکا

میں وجہِ ترکِ دوستی کو سُن کر مُسکرائی تو

وہ چونک اُٹھا عجب نظر سے مجھ کو دیکھنے لگا

بچھڑ کے مُجھ سے، خلق کو عزیز ہو گیا ہے تُو

مجھے تو جو کوئی ملا، تجھی کو پُوچھتا رہا

وہ دلنواز لمحے بھی گئی رُتوں میں آئے جب

میں خواب دیکھتی رہی، وہ مجھ کو دیکھتا رہا

وہ جس کی ایک پل کی بے رُخی بھی دل کو بار تھی

اُسے خود اپنے ہاتھ سے لکھا ہے مجھ کو بُھول جا

دمک رہا ہے ایک چاند سا جبیں پہ اب تلک

گریزپا محبتوں کا کوئی پل ٹھہر گیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

<p> </p>

<div><span style="color:#ff0000;"><span style="font-size:18px;">کتنا اچھا ہو کہ بازی پلٹ جائے ساری<br />

اُسکو میری یاد ستائے، اور میں مصروف رہوں</span></span></div>

Share this post


Link to post
Share on other sites

وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے

ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر

محسن نقوی

Share this post


Link to post
Share on other sites

یُوں مُجھے بھیج کے تنہا، سرِ بازارِ فریب !

کیا میرے دوست، میری سادہ دِلی بُھول گئے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×

Important Information

We have placed cookies on your device to help make this website better. You can adjust your cookie settings, otherwise we'll assume you're okay to continue.