Jump to content
CooLYar Forums - A Friendly Community by CooLYar
shy

Soch...

Recommended Posts

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے، ممکن ہے، خرابوں‌ میں ملیں

غمِ دنیا بھی غمِ یار میں‌ شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

تو خدا ہے، نہ میرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں‌ اتنے حجابوں میں‌ ملیں؟

آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں‌ ملیں

اب نہ وہ میں، نہ وہ تو ہے، نہ وہ ماضی ہے فراز
جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں....

احمد فراز

Share this post


Link to post
Share on other sites
یہ بے مقصد سفر اب ختم ہو تو بہتر ہے
نہ تم سے رہبری ہوگی، نہ ہم سے پیروی ہوگی

Share this post


Link to post
Share on other sites
اپنی تنہائی سے وحشت نہیں ھوتی مجھ کو
کیا عجب شے ھوں محبت نہیں ھوتی مجھ کو

اب کوئی بات نئی بات نہیں میرے لیے
اب کسی بات پہ حیرت نہیں ھوتی مجھ کو

یاد آتی نہیں بیتی ھوئی باتیں دل کو
یاد کرنے کی ضرورت نہیں ھوتی مجھ کو

خواہشِ وصل کہاں، عشق کہاں، باتیں کہاں
سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ھوتی مجھ کو

اب سلگتا نہیں یادوں میں وہ مٹی کا دیا
تم سے ملنے کی بھی حسرت نہیں ھوتی مجھ کو

Share this post


Link to post
Share on other sites
ﺗﻤﮭﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﺩﻭﭘﮩﺮ ﮐﮯ ﮔﺮﻡ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺩﯾﮑﮭﻮ؟
ﮐﮧ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﭘﮕﮭﻞ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﻤﮭﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﭨﻮﭨﺘﯽ ﺁﻧﺪﮬﯽ، ﺍﻟﺠﮭﺘﯽ ﺑﺠﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ
ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺮ ﻟﻮ
ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺮ ﻟﻮ
ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺟﻞ ﺟﺎﮰ
ﺗﻤﮭﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﺍﮎ ﺍﻧﺠﺎﻧﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ
ﺍﮎ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺟﺎﺅ
ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺟﺎﺅ
ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﮰ؟
ﺗﻤﮭﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ؟؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites
یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites
مرے آشنا بھی عجیب تھے نہ رفیق تھے نہ رقیب تھے

مجھے جاں سے درد عزیز تھا انہیں فکرِ چارہ گری رہی


میں یہ جانتا تھا مرا ہنر ہے شکست و ریخت سے معتبر

جہاں لوگ سنگ بدست تھے وہیں میری شیشہ گری رہی

Share this post


Link to post
Share on other sites
ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﮐﺮﻧﺎ ---------- ﺳﻔﺮ ﮐﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﮐﺮﻧﺎ
ﺟﻮ ﺗﻢ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ--------- ﺗﻮ ﺭﺏ ﺳﮯ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺮﻧﺎ

ﯾﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﮨﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ----------- ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮭﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﻘﺪﺭ ﮐﻮ ﺳﺘﺎﺅ ﮔﮯ------------ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﺳﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺭﮐﮭﻮ----------- ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺭﮐﮭﻮ
ﺟﺴﮯ ﺗﻢ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ---------- ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﺭﮐﮭﻮ

ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﻋﻮﮮ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ----------- ﮐﺒﮭﯽ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﮯ
ﻋﺸﻖِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺅ----------- ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺪ ﻧﺎﻡ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﮯ

Share this post


Link to post
Share on other sites
La-Parwah wo Zamanay bhar ka

Phir bhi woh acha lagta hai Zamanay bhar se...

Share this post


Link to post
Share on other sites

Some hearts hear each other - even in silence...

Sometimes what's separated in this life, is joined in the next.

Share this post


Link to post
Share on other sites
ﺧﺰﺍﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﯽ ﺳﺮﺩ ﺷﺎﻣﯿﮟ
ﺳﺮﺍﺏ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎﻣﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ
ﻣﺎﯾﻮﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺼﺎﺏ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ
ﺑﮯ ﻧﻮﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ
ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﺎ ﮐﮧ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﺎﺭﮮ
ﻣﯿﺮﯼ ﺣﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﭼﻮﮐﮭﭧ ﭘﮧ ﺁ ﺭﮐﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﺴﺎﻓﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﮭﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ
ﻏﺒﺎﺭِ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﺍﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮬﯿﮟ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ
ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮈﺭﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ
ﺳﻮﺍﻟﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺗﮏ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﭼﻮﮐﮭﭧ ﭘﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ
ﺟﺒﯿﮟ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ

Share this post


Link to post
Share on other sites
ﮨﻤﯿﮟ ﻻﺣﻖ ﺟﻮ ﺍﮎ ﺑﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﺎ ﻏﻢ ﮨﮯ، ﻋﺠﺐ ﻏﻢ ﮨﮯ
ﺗﺒﺴّﻢ ﺯﯾﺮ ﻟﺐ ﮨﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﭘُﺮﻧﻢ ﮨﮯ، ﻋﺠﺐ ﻏﻢ ﮨﮯ

ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮨﮯ، ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ، ﺩﻟﻨﻮﺍﺯﯼ ﮨﮯ
ﺩﺭﻭﻥِ ﺧﺎﻧﮧﺀ ﺩﻝ ﺷﻮﺭِ ﻣﺎﺗﻢ ﮨﮯ، ﻋﺠﺐ ﻏﻢ ﮨﮯ

Share this post


Link to post
Share on other sites
حیراں ہوں زِندگی کی انوکھی اُڑان پر
پاؤں زمین پر ہیں ، مزاج آسمان پر

آتا نہیں یقین کِسی کی زُبان پر
بادل کا ہو رہا ہے گماں بادبان پر

کِرنوں کے تِیر چلنے لگے ہیں جہان پر
بیٹھا ہوا ہے کون فلک کی مچان پر

یہ زخم تو مِلا تھا کِسی اور سے مجھے
کیوں شکل تیری بننے لگی ہے نِشان پر

اِتنے سِتم اُٹھا کے تُو زِندہ ہے کِس طرح
کِتنا یقیں کروں میں تری داستان پر

تصویر اُس کی میں نے سجانے کی بُھول کی
سارا جہان ٹُوٹ پڑا ہے دُکان پر

چھوٹا سا اِک چراغ بُجھانے کے واسطے
ٹھہری رہی ہے رات مرے سائبان پر

گھر سے نِکل رہا ہے کوئی اور ہی عدیم
تختی لگی ہوئی ہے کِسی کی مکان پر

Share this post


Link to post
Share on other sites
جب بھی کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو
قــــــائم رہو حسین کے انـــکار کی طـــرح

Share this post


Link to post
Share on other sites
تم نے ہمارے دل میں بہت دن سفر کیا
شرمندہ ہیں کہ اس میں بہت خم ملے تمہیں

تم کو جہانِ شوق و تمنا میں کیا ملا
ہم بھی ملے تو درہم و برہم ملے تمہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites
جب کبھی اُن کی توجہ میں کمی پائی گئ
ازسرِ نو داستانِ شوق دہرائی گئ

اے غمِ دنیا! تجهے کیا علم، تیرے واسطے
کن بہانوں سے طبیعت راه پر لائی گئ

ہم کریں ترکِ وفا اچها چلو یونہی سہی
اور اگر ترکِ وفا سے بهی نہ رسوائی گئ؟

کیسے کیسے چشم و عارض گرد غم سے بجھ گئے
کیسے کیسے پیکروں کی شانِ زیبائی گئ

ان کا غم'ان کا تصور اُن کے شکوے اب کہاں
اب تو یہ باتیں بهی اے دل ہو گیں آئی گئ

عرصہ ہستی میں اب تیشہ زنوں کا دور ہے
رسمِ چنگیزی اٹهی، توقیرِ دارائی گئ.

ساحر لدهیانوی

Share this post


Link to post
Share on other sites

کچھ کہنا تھا اُسے بھی
اور مجھے بھی
اس نے چاہا میں کُچھ کہوں
میری یہ ضِد بات وہ کرے
یہی سوچتے سوچتے زمانے بیت گئے
نہ اس کی انا ٹوٹی نہ میری ضِد
اس کی انا فصیل تھی
تو میری ضِد چٹان
انا اور ضِد کے اِسی تضاد میں
سفرِزندگی یونہی رواں رہا
وقت کٹتا رہا
درد بڑھتا رہا
اور سفر اختتام کو پہنچا
اختتامِ سفر یہ رہا
میری آنکھوں میں ہلکی سی نمی
اور شاید اسکی زندگی میں تھوڑی سی کمی
اس کی انا شکست خوردہ
میری ضِد ریزہ ریزہ۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×

Important Information

We have placed cookies on your device to help make this website better. You can adjust your cookie settings, otherwise we'll assume you're okay to continue.