shy 468 Posted December 15, 2013 عشق سمجھے تھے جس کو وہ شایدتھا بس اک نارسائی کا رشتہمیرے اور اس کے درمیاں نکلاعمر بھر کی جدائی کا رشتہ Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 15, 2013 شکوہ کروں میں کب تک اُس اپنے مہرباں کاالقصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا گریے پہ رنگ آیا، قیدِ قفس سے شایدخوں ہوگیا جگر میں اب داغ گلستاں کا دی آگ رنگِ گل نے واں اے صبا چمن کو یاں ہم جلے قفس میں ،سن حال آشیاں کاہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہےپیوند ہو زمیں کا، شیوہ اس آسماں کاکم فرصتی جہاں کے مجمعے کی کچھ نہ پوچھواحوال کیا کہوں میں اس مجلسِ رواں کا ناحق شناسی سے یہ، زاہد نہ کر برابرطاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کاناحق یہ ظلم کرنا، انصاف کہہ پیارےہے کون سی جگہ کا، کس شہر کا، کہاں کا Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 16, 2013 میں وہی قطرۂ بے بحر وہی دشت نورداپنے کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے صحرا کا طلسماپنے سینے میں چھپائے ہوئے سیلاب کا دردٹوٹ کر رشتۂ تسبیح سے آ نکلا ہوںدل کی دھڑکن میں برستے ہوئے لمحوں کا خروشمیری پلکوں پہ بگولوں کی اڑائی ہوئی گردلاکھ لہروں سے اٹھا ہے مری فطرت کا خمیرلاکھ قلزم مرے سینے میں رواں رہتے ہیںدن کو کرنیں مرے افکار کا منہ دھوتی ہیںشب کو تارے مری جانب نگراں رہتے ہیںمیرے ماتھے پہ جھلکتا ہے ندامت بن کرابنِ مریم کا وہ جلوہ جو کلیسا میں نہیںراندۂ موج بھی مَیں، مجرمِ ذرات بھی مَیںمیرا قصہ کسی افسانۂ دریا میں نہیںمیری تاریخ کسی صفحۂ صحرا میں نہیں(مصطفیٰ زیدی) Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 16, 2013 رہتا نہیں انسان تو ہوتا نہیں غم بھیاک روز زمیں اوڑھ کے سو جائیں گے ہم بھیہاں حلف وفا شوق سے اٹھوائیے لیکنہم لوگ وفادار ہیں بے قول و قسم بھی Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 18, 2013 ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﮧ ﺭﮎ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺣﯿﺎﺕﯾﮧ ﺯﻣﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﮭﻮﻣﺘﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 21, 2013 پھر اسی رہ گزر پر شایدہم کبھی مل سکیں مگر شایدجان پہچان سے بھی کیا ہو گاپھر بھی اے دوست غور کر شایدمنتظر جن کے ھم رھے ان کومل گیے اور ہمسفر شایدجو بھی بچھڑے ہیں کب ملیں ہیں فرازپھر بھی تو انتظار کر شاید Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 21, 2013 کون جانے کہاں ہے شہرِ سکوںقریہ قریہ بھٹک رہا ہے جنوںنورِ منزل مجھے نصیب کہاںمیں ابھی حلقۂ غبار میں ہوںیہ ہے تاکید سننے والوں کیواقعہ خوشگوار ہو تو کہوںکن اندھیروں میں کھو گئی ہے سحرچاند تاروں پہ مار کر شب خوںتم جسے نورِ صبح کہتے ہومیں اسےگردِ شام بھی نہ کہوںاب تو خونِ جگر بھی ختم ہوامیں کہاں تک خلا میں رنگ بھروںجی میں آتا ہے اے رہِ ظلمتکہکشاں کو مروڑ کر رکھ دوں Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 22, 2013 ممکن ہے صدیوں بھی نظر آئے نہ سورجاس بار اندھیرا میرے اندر سے اٹھا ہے Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 22, 2013 قید حیات و بند غم ، اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟ Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 24, 2013 قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگےدل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگےہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتےخلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگےیہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیےاب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگےاپنا یہ حال ہے کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکےاور محبت وہی انداز پرانے مانگےزندگی ہم تیرے داغوں سے رہے شرمندہاور تو ہے کہ سدا آئینہ خانے مانگےدل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جانِ فرازمل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 24, 2013 آساں نہیں ہے کشمکشِ ذات کا سفرہے آگہی کے بعد ، غمِ آگہی بہت Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 25, 2013 اس قدر برف پڑی صدموں کیصبر جم گیا میری آنکھوں میں Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 25, 2013 یہ گرد بادِ تمنا میں گھومتے ہوئے دنکہاں پہ جا کے رُکیں گے یہ بھاگتے ہوئے دنغروب ہوتے گئے رات کے اندھیروں میںنویدِ امن کے سورج کو ڈھونڈتے ہوئے دننجانے کون خلا کے یہ استعارے ہیںتمہارے ہجر کی گلیوں میں گونجتے ہوئے دننہ آپ چلتے ، نہ دیتے ہیں راستہ ہم کوتھکی تھکی سی یہ شامیں یہ اونگھتے ہوئے دنپھر آج کیسے کٹے گی پہاڑ جیسی راتگزر گیا ہے یہی بات سوچتے دنتمام عمر مرے ساتھ ساتھ چلتے رہےتمہی کو ڈھونڈتے تم کو پکارتے ہوئے دنہر ایک رات جو تعمیر پھر سے ہوتی ہےکٹے گا پھر وہی دیوار چاٹتے ہوئے دنمرے قریب سے گزرے ہیں بار ہا امجدکسی کے وصل کے وعدے کو دیکھتے ہوئے دن Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 26, 2013 Life Is Sweet But Merging With You Is Far Sweeter.~Rumi Share this post Link to post Share on other sites
shy 468 Posted December 26, 2013 ستا رے جو دمکتے ہیںکِسی کی چشمِ حیراں میںملا قا تیں جو ہو تی ہیںجمال ابر و باراں میںیہ نا آباد وقتوں میںدل نا شا د میں ہو گیمحبت اب نہیں ہو گییہ کچھ دن بعد میں ہو گیگزر جا ئیں گے جب یہ دنیہ اُن کی یا د میں ہو گی Share this post Link to post Share on other sites