Jump to content
CooLYar Forums - A Friendly Community by CooLYar
shy

Soch...

Recommended Posts

ہاتھ کی لکیروں میں
کیا تلاش کرتے ہو..
ان فضول باتوں میں
کس لئے الجھتے ہو..
جس کو ملنا ہوتا ہے
بن لکیر دیکھے ہی..
زندگی کے راستوں پر
ساتھ ساتھ چلتا ہے..
پھر کہاں بچھڑتا ہے
جو نہیں مقدر میں..
کب وہ ساتھ چلتا ہے
ہاتھ کی لکیروں میں
کیا تلاش کرتے ہو۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﮐﮫ ﮨﯽ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ
ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ

ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻧﮑﻠﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ
ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ

ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁ ﮔﺌﮯ
ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ

ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﺴﺎ ﻟﯿﺎ
ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﺠﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ

ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﻋﺪﮦ ﻭﻓﺎ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ ﻭﮦ
ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﭗ ﺟﻼﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ

ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﺍﻣﻦِ ﺩﻝ ﺩﺍﻍ ﺩﺍﻍ ﺗﮭﺎ
ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﺍﻍ ﻣﭩﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ

ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ
ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮭﻼﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ

ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﮐﮫ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ
ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ

ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ
ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﻋﺪﮮ ﻧﺒﮭﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ

ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﺑﮍﮬﺘﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ
ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺭﻧﺞ ﺑﮭﻼﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ

ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﻏﯿﺎﺙ
ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ

Share this post


Link to post
Share on other sites
خود کو کردار سے اوجھل نہیں ہونے دیتا
وہ کہانی کو مکمل نہیں ہونے دیتا

سنگ بھی پھینکتا رہتا ہے کہیں ساحل سے
اور پانی میں بھی ہلچل نہیں ہونے دیتا

کاسہء خواب سے تعبیر اُٹھا لیتا ہے
پھر بھی آبادی کو جنگل نہیں ہونے دیتا

دھوپ میں چھائوں بھی رکھتا ہے سروں پر ، لیکن
آسماں پر کہیں بادل نہیں ہونے دیتا

ابر بھی بھیجتا رہتا ہے سدا بستی میں
گلی کوچوں میں بھی جل تھل نہیں ہونے دیتا

روز اک لہر اُٹھا لاتا ہے بے خوابی کی
اور پلکوں کو بھی بوجھل نہیں ہونے دیتا

پھول ہی پھول کھلاتا ہے سرِ شاخِِ وُجود
اور خوشبو کو مسلسل نہیں ہونے دیتا

عالمِ ذات میں درویش بنا دیتا ہے
عشق انسان کو پاگل نہیں ہونے دیتا

Share this post


Link to post
Share on other sites
ذرا سی دیر کو منظر سُہانے لگتے ہیں ۔۔
پھر اُس کے بعد یہی قید خانے لگتے ہیں ۔۔
میں سوچتا ہوں کہ تو دربدر نہ ہو، ورنہ ۔۔
تجھے بھلانے میں کوئی زمانے لگتے ہیں ۔۔
کبھی جو حد سے بڑھے دل میں تیری یاد کا حبّس ۔۔
کھلی فضا میں تجھے گنگنانے لگتے ہیں ۔۔
جو تو نہیں ہے تو تجھ سے کئے ہوئے وعدے ۔۔
ہم اپنے آپ سے خود ہی نبھانے لگتے ہیں ۔۔
عجیب کھیل ہے جلتے ہیں اپنی آگ میں ہم ۔۔
پھر اپنی راکھ بھی خود ہی اُڑانے لگتے ہیں ۔۔
یہ آنے والے زمانے مرے سہی، لیکن ۔۔
گذشتہ عمر کے سائے ڈرانے لگتے ہیں ۔۔
نگار خانہء ہستی میں کیسا پائے ثبات ۔۔
کہیں کہیں تو قدم ڈگمگانے لگتے ہیں ۔۔!

Share this post


Link to post
Share on other sites
Bichar kar kaarwan se rah_roo aisa howa tanha.
Thaka tanha, gira tanha, utha tanha, chala tanha.

Share this post


Link to post
Share on other sites
نجانے کونسی منزل کی جستجو تھی مجھے
تمام عمر چلا پھر بھی رہ گزر میں رہا

Share this post


Link to post
Share on other sites

"The way to You
lies clearly in my heart
and cannot be seen or known to the mind.
As my words turn to silence,
Your sweetness surrounds me."

--Hakim Sanai

Share this post


Link to post
Share on other sites
Your fragrance is always with me.
Your Face never leaves my sight.
Day and night I’ve been longing for You.
My life is spent, but by desire for You remains.

Divan-e Shams-e Tabrizi

Share this post


Link to post
Share on other sites
یہ انتظار نہ ٹھہرا کوئی بلا ٹھہری
کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری

Share this post


Link to post
Share on other sites
تجھے خواب ہی میں دیکھوں یہ بھرم بھی آج ٹوٹا
...تیرے خواب کیسے دیکھوں مجھے نیند ہی نہ آیی

Share this post


Link to post
Share on other sites

bethasa Mohabbaton K Ameen

Bewaja chor bhi tu jatay hain...

Share this post


Link to post
Share on other sites
یہ جو اِک شب و روز بپا ہے مُجھ میں
ہو نہ ہو اور بھی کچھ میرے سِوا ہے مُجھ میں

Share this post


Link to post
Share on other sites
ﮐﺮﺏ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﺎﻩ ﻭ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﻫﻮﻳﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﺁﺝ ﻓﺮﺻﺖ ﮨﮯ، ﮐﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﺍﺗﻨﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺗﻮ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﻧﮭﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﭼﮩﺮﮮ
ﮔﺮﺩ ﺁﻟﻮﺩ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﺩﻫﻮﻳﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ، ﺟﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﻴﺰﺍﺭ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﮒ
ﺍﺱ ﺍﻟﻤﯿﮯ ﭘﮧ ﮨﻨﺴﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ

Share this post


Link to post
Share on other sites
گِنو نہ زخم، نہ دِل سے اَذّیتیں پوچھو
جو ہو سکے تو حریفوں کی نِیتیں پوچھو

ہوا کی سَمت نہ دیکھو، اُسے تو آنا ہے ۔
چراغِ آخرِ شب سے وصیتیں پوچھو

اُجڑ چُکے ہو تو اب خُود پہ سوچنا کیسا۔۔؟؟
کہا تھا کِس نے کہ اُس کی مشیتیں پوچھو !

سناں پہ سج گئے لیکن، جُھکے نہ سر اپنے
سِتمگروں سے ہماری حمیتیں پوچھو

ہزار زخم سہو پھر بھی چُپ رہو محسن ۔
نہیں ضُرور کہ یاروں کی نِیتیں پوچھو

Share this post


Link to post
Share on other sites
ﮨﺮ ﭼﻨﺪ ﮐﮧ ﺟﺰﺍ ﮐﮯ ﻃﻠﺒﮕﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯ
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯ

ﮨﻢ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﻖ ﺍﺩﺍ ﮨﻮﺍ
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯ

ﻣﺸﺮﮎ ﮨﻮﮰ ﺗﮭﮯ ﮬﻢ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻣﺮﺗﺪ ﮨﻮﮰ ﮐﺒﮭﯽ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯ

ﺩﻝ ﮨﺎﺭ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺍﻧﺎ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﺎ ﭘﺎﺱ
ﮬﻢ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩﺩﺍﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯ

ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮬﻤﯿﮟ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻧﮧ ﻣﻠﮯ
ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻓﮑﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯ

ﮔﺬﺭﯼ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ ﮐﮍﯼ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ
ﺭﺳﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺳﺎﮰ ﺍﻭﺭ ﺍﺷﺠﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯ

ﮬﻢ ﺳﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﻭﻓﺎ ﺑﻼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﺪ
ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﺿﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺩﺍﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮯ

Share this post


Link to post
Share on other sites
کبھی اِس جہاں کی بندش کبھی لامکاں کی بندش
میں جہاں جہاں سے نکلا مجھے اُس جہاں کی بندش

میں زمانے گن رہا ہوں، میں فسانے چن رہا ہوں
مرے لیکھ لکھنے والے، مجھے امتحاں کی بندش

میں کہاں کہاں گرا ہوں، میں کہاں کہاں مرا ہوں
کہیں دوستوں کی عزّت کہیں رفتگاں کی بندش

مرا سلسلہ کہاں تک، مرا راستہ کہاں تک
مری سرحدوں کے مالک، کبھی کھول جاں کی بندش

مجھے بخش میرا چہرہ، مجھے بخش دے سراپا
میں کہانیوں کا باسی مجھے داستاں کی بندش

Share this post


Link to post
Share on other sites
گہرے سمندروں میں اترنے کی لے کے آس
بیٹھے ہوئے ہیں ایک کنارے ہمارے خواب

Share this post


Link to post
Share on other sites
اُسے جانے کی جلدی تھی، سو میں آنکھوں ہی آنکھوں میں
جہاں تک چھوڑ سکتا تھا ___________ وہاں تک چھوڑ آیا ہوں

Share this post


Link to post
Share on other sites
ہر قدم مرحلہء دار و صلیب آج بھی ہے
جو کبھی تھا، وہی انساں کا نصیب آج بھی ہے

جگمگاتے ہیں افق پر تو ستارے لیکن
راستہ منزلِ ہستی کا مہیب آج بھی ہے

سرِ مقتل جنہیں جانا تھا وہ جا بھی پہنچے
سرِ منزل کوئی محتاط خطیب آج بھی ہے

یہ تری یاد ہے یا میری اذیت کوشی
ایک نشتر سا رگِ جاں کے قریب آج بھی ہے

کون جانے یہ ترا شاعرِ آشفتہ مزاج
کتنے مغرور خداؤں کا رقیب آج بھی ہے.

ساحر لدھیانوی

Share this post


Link to post
Share on other sites
سُنو قلم کے مُہِمّات جاننے والو
دل ِ حیات کے ضربات جاننے والو
مِزاج ِ ارض و سماوات جاننے والو
ادب کے جُملہ مَقامات جاننے والو
تمھیں نہ صِرف شبستاں میں جاکےلِکھنا ہے
ہر ایک عہد کے زنداں میں جاکے لِکھنا ہے

مصطفیٰ زیدی

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×

Important Information

We have placed cookies on your device to help make this website better. You can adjust your cookie settings, otherwise we'll assume you're okay to continue.