Jump to content
CooLYar Forums - A Friendly Community by CooLYar
shy

Soch...

Recommended Posts

عشق سمجھے تھے جس کو وہ شاید
تھا بس اک نارسائی کا رشتہ

میرے اور اس کے درمیاں نکلا
عمر بھر کی جدائی کا رشتہ

Share this post


Link to post
Share on other sites
شکوہ کروں میں کب تک اُس اپنے مہرباں کا
القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا

گریے پہ رنگ آیا، قیدِ قفس سے شاید
خوں ہوگیا جگر میں اب داغ گلستاں کا


دی آگ رنگِ گل نے واں اے صبا چمن کو
یاں ہم جلے قفس میں ،سن حال آشیاں کا


ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے
پیوند ہو زمیں کا، شیوہ اس آسماں کا


کم فرصتی جہاں کے مجمعے کی کچھ نہ پوچھو
احوال کیا کہوں میں اس مجلسِ رواں کا


ناحق شناسی سے یہ، زاہد نہ کر برابر
طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا


ناحق یہ ظلم کرنا، انصاف کہہ پیارے
ہے کون سی جگہ کا، کس شہر کا، کہاں کا

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں وہی قطرۂ بے بحر وہی دشت نورد
اپنے کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے صحرا کا طلسم
اپنے سینے میں چھپائے ہوئے سیلاب کا درد
ٹوٹ کر رشتۂ تسبیح سے آ نکلا ہوں
دل کی دھڑکن میں برستے ہوئے لمحوں کا خروش
میری پلکوں پہ بگولوں کی اڑائی ہوئی گرد

لاکھ لہروں سے اٹھا ہے مری فطرت کا خمیر
لاکھ قلزم مرے سینے میں رواں رہتے ہیں
دن کو کرنیں مرے افکار کا منہ دھوتی ہیں
شب کو تارے مری جانب نگراں رہتے ہیں
میرے ماتھے پہ جھلکتا ہے ندامت بن کر
ابنِ مریم کا وہ جلوہ جو کلیسا میں نہیں

راندۂ موج بھی مَیں، مجرمِ ذرات بھی مَیں

میرا قصہ کسی افسانۂ دریا میں نہیں
میری تاریخ کسی صفحۂ صحرا میں نہیں

(مصطفیٰ زیدی)

Share this post


Link to post
Share on other sites
رہتا نہیں انسان تو ہوتا نہیں غم بھی
اک روز زمیں اوڑھ کے سو جائیں گے ہم بھی

ہاں حلف وفا شوق سے اٹھوائیے لیکن
ہم لوگ وفادار ہیں بے قول و قسم بھی

Share this post


Link to post
Share on other sites

ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﮧ ﺭﮎ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺣﯿﺎﺕ
ﯾﮧ ﺯﻣﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﮭﻮﻣﺘﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ

Share this post


Link to post
Share on other sites
پھر اسی رہ گزر پر شاید
ہم کبھی مل سکیں مگر شاید

جان پہچان سے بھی کیا ہو گا
پھر بھی اے دوست غور کر شاید

منتظر جن کے ھم رھے ان کو
مل گیے اور ہمسفر شاید

جو بھی بچھڑے ہیں کب ملیں ہیں فراز
پھر بھی تو انتظار کر شاید

Share this post


Link to post
Share on other sites
کون جانے کہاں ہے شہرِ سکوں
قریہ قریہ بھٹک رہا ہے جنوں

نورِ منزل مجھے نصیب کہاں
میں ابھی حلقۂ غبار میں ہوں

یہ ہے تاکید سننے والوں کی
واقعہ خوشگوار ہو تو کہوں

کن اندھیروں میں کھو گئی ہے سحر
چاند تاروں پہ مار کر شب خوں

تم جسے نورِ صبح کہتے ہو
میں اسےگردِ شام بھی نہ کہوں

اب تو خونِ جگر بھی ختم ہوا
میں کہاں تک خلا میں رنگ بھروں

جی میں آتا ہے اے رہِ ظلمت
کہکشاں کو مروڑ کر رکھ دوں

Share this post


Link to post
Share on other sites

ممکن ہے صدیوں بھی نظر آئے نہ سورج
اس بار اندھیرا میرے اندر سے اٹھا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

قید حیات و بند غم ، اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے

ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے
اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے

اپنا یہ حال ہے کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے
اور محبت وہی انداز پرانے مانگے

زندگی ہم تیرے داغوں سے رہے شرمندہ
اور تو ہے کہ سدا آئینہ خانے مانگے

دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جانِ فراز
مل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے

Share this post


Link to post
Share on other sites
آساں نہیں ہے کشمکشِ ذات کا سفر

ہے آگہی کے بعد ، غمِ آگہی بہت

Share this post


Link to post
Share on other sites
اس قدر برف پڑی صدموں کی

صبر جم گیا میری آنکھوں میں

Share this post


Link to post
Share on other sites
یہ گرد بادِ تمنا میں گھومتے ہوئے دن
کہاں پہ جا کے رُکیں گے یہ بھاگتے ہوئے دن

غروب ہوتے گئے رات کے اندھیروں میں
نویدِ امن کے سورج کو ڈھونڈتے ہوئے دن

نجانے کون خلا کے یہ استعارے ہیں
تمہارے ہجر کی گلیوں میں گونجتے ہوئے دن

نہ آپ چلتے ، نہ دیتے ہیں راستہ ہم کو
تھکی تھکی سی یہ شامیں یہ اونگھتے ہوئے دن

پھر آج کیسے کٹے گی پہاڑ جیسی رات
گزر گیا ہے یہی بات سوچتے دن

تمام عمر مرے ساتھ ساتھ چلتے رہے
تمہی کو ڈھونڈتے تم کو پکارتے ہوئے دن

ہر ایک رات جو تعمیر پھر سے ہوتی ہے
کٹے گا پھر وہی دیوار چاٹتے ہوئے دن

مرے قریب سے گزرے ہیں بار ہا امجد
کسی کے وصل کے وعدے کو دیکھتے ہوئے دن

Share this post


Link to post
Share on other sites

Life Is Sweet
But Merging With You Is Far Sweeter.
~Rumi

Share this post


Link to post
Share on other sites

ستا رے جو دمکتے ہیں
کِسی کی چشمِ حیراں میں

ملا قا تیں جو ہو تی ہیں
جمال ابر و باراں میں

یہ نا آباد وقتوں میں
دل نا شا د میں ہو گی

محبت اب نہیں ہو گی
یہ کچھ دن بعد میں ہو گی

گزر جا ئیں گے جب یہ دن
یہ اُن کی یا د میں ہو گی

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×

Important Information

We have placed cookies on your device to help make this website better. You can adjust your cookie settings, otherwise we'll assume you're okay to continue.