aamir354pk 94 Posted January 26, 2013 1 hindu Techer clas me: "Bacho Aap ko main nazar a raha hon? Bachay: "G Haa" Teacher: "main ap k samne kara hu es liye nazar a rha hu.Kya ap ko ALLAH nazar a rahahy? Bachay"Nhi" To techer ne kaha"Hota to nazar ata" 1 Muslim Bache ne kara ho k kaha : "Bacho ! Aap ko Ustad sahb ki Aqal Nazar aa rhi hy?" Bachon ne kaha: "nhi" Muslim bacha: "Hoti to nazar ati" PROUD TO B A MUSLIM" Zabardast Share this post Link to post Share on other sites
aamir354pk 94 Posted January 26, 2013 A Muslim Queen does not need a crown, It is the Hijab No doubt Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted January 27, 2013 thanx for reading n liking the post :) Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted February 23, 2013 زلیخا نے یوسف علیہ السلام کے عشق میں مجبور ہو کر یوسف علیہ السلام کا دامن پکڑ لیا اور اپنی خواہش کا اظہار اس قدر شدت سے کیا کہ آپ لرز اٹھے۔ زلیخا کے پاس سنگ مرمر کا بت تھا جس کی وہ صبح و شام پوجا کرتی۔ اس کی آرتی اتارتی۔ دریائے نیل کی سطح پر تیرتے ہوئے کنول کے پھول اس کے چرنوں میں رکھتی، عطر چھڑکتی لیکن جونہی اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کا دامن پکڑا تو بت کو ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا۔ مقصد یہ تھا کہ اس کا معبود بت اسے اس حالت میں نہ دیکھ سکے۔ وہ بت سے حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ دست درازی کو چھپانا چاہتی تھی۔ اس نازک صورتحال سے حضرت یوسف علیہ السلام بہت رنجیدہ ہوئے۔ سر پکڑ کر رہ گئے۔ زلیخا جذبات کی رو میں بے اختیار آپ کے پاؤں چومنے لگی اور کہنے لگی۔ "اتنے سنگدل نہ بنو، وقت اچھا ہے، اسے ضائع نہ کرو۔ میری دلی مراد پوری کرو۔" حضرت یوسف علیہ السلام رو پڑے اور فرمایا۔ "اے ظالم! مجھ سے ایسی توقع نہ رکھ۔ تجھے اس بت سے تو شرم آتی ہے جسے تو نے کپڑے سے ڈھانپ دیا ہے اور مجھے اپنے خدا سے شرم آتی ہے جو پردوں کے پیچھے بھی دیکھتا ہے۔" (مخزن اخلاق) 1 Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted March 12, 2013 acha insan achi batun ki wajah sy nhi achy amal ki wjah sy acha bnta hy q k achi baaten to dewarun per b likhi jati haen Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted March 24, 2013 قرآن وہ آئینہ تھا جو بہت شفاف تھا۔ اس میں سب کچھ صاف نظر آتا تھا۔ اتنا صاف کہ کبھی کبھی دیکھنے والے کو خود سے نفرت ہونے لگتی تھی۔ از "مصحف" نمرہ احمد Share this post Link to post Share on other sites