Hoorainraza 38 Posted February 18, 2013 بارش تھی، ہم تھے اور گھنی ہو رہی تھی شام تم نے لیا تھا کانپتے ہونٹوں سے میرا نام میں نے کہا تھا، آؤ یونہی بھیگتے چلیں اِن راستوں میں دیر تلک گھومتے رہیں میری کمر میں ہاتھ یہ پھولوں سا ڈال کر کاندھے پہ میرے رکھے رہو یونہی اپنا سر ہاتھوں کو میں کبھی،کبھی بالوں کو چوم لوں دیکھو میری طرف تو میں آنکھوں کو چوم لوں پانی کے یہ جو پھول ہیں رُخ پر کھلے ہوئے اِن میں دھنک کے رنگ ہیں سارے گھلے ہوئے ہونٹ سے اِن کو چُنتے رہیں خوش دِلی کے ساتھ تارے ہمیں تلاش کریں، چاندنی کے ساتھ Share this post Link to post Share on other sites
sho_shweet 657 Posted February 18, 2013 ahaan nice 1 Share this post Link to post Share on other sites
aamir354pk 94 Posted February 18, 2013 tusi wi a gaey ho Share this post Link to post Share on other sites