Hoorainraza 38 Posted July 21, 2011 دليل محبت سنا تھا ہم نے لوگوں سے محبت چيز ايسي ہے چھپائے چھپ نہيں سکتي يہ آنکھوں سے چمکتي ہے يہ چہروں پر دمکتي ہے يہ لہجوں ميں جھلکتي ہے دلوں تک کو گُھلاتي ہے لہو ايندھن بناتي ہے اگر سچ ہے . . . . . تو پھر آخر ہميں اس ذاتِ حق سے يہ بھلا کيسي محبت ہے؟ نہ آنکھوں سے جھلکتي ہے نہ چہروں پر ٹپکتي ہے نہ لہجوں ميں سُلگتي ہے دلوں کو آزماتي ہے نہ راتوں کو رُلاتي ہے کليجے مونہہ کو لاتي ہے نہ فاقوں سے ستاتي ہے نہ خاک آلود کرتي ہے نہ کانٹوں پر چلاتي ہے نہ يہ مجنوں بناتي ہے عجب ايسي محبت ہے فقط دعويٰ سُجھاتي ہے نہ کعبے کي گلي ميں تن پہ انگارے بجھاتي ہے نہ غارِ ثور ميں چُپ کے سکينت بن کے چھاتي ہے حرا تک لے بھي جائے. . .قُدس سے آنکھيں چُراتي ہے ہم اپنے دعوٰئےحق ِ محبت پر ہوئے نادم تو پلکوں کے کناروں سے جھڑي سي لگ گئي اور پھر کہيں سے بجلياں کُونديں صدا آئي ذرا اس آنکھ کي بندش کے دم بھر منتظر رہنا وہاں خود جان جاؤ گے !!!محبت کي حقيقت کو Share this post Link to post Share on other sites